ولکن شُبّھہ لھم — Page 9
بن تيمية الحراني الدشقى المتوفى سنة ٤٢٨ - منت دست - الطبعة الأولى سنة سلامها المطبعة العامرة الشرقية بمصر على نفقته به شركة طبع الكتب العلمية بمصر) ترجمہ:۔اور یہ بات ظاہر ہے کہ تورات اور انجیل میں حضرت موسیٰ اور عیسی علیها السلام دونوں حضرا کی وفات کے بعد کے بنو حالات تحریہ ہیں وہ اللہ تعالے کا نازل کردہ کلام نہیں اور نہ ہی ایسا کلام ہے کہ نہیں کہ ان اہل کتاب نے حضرت موسیٰ اور عیسی علیہما السلام سے اخذہ کیا ہو کیونکہ اس کا تعلق ان کی وفات کے بعد کے حالات سے ہے)۔- علامہ ابن قیم زاد المعاد میں مسیح علیہ السلام کے جہانی مرقع کے عقیدہ کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔وَاهَا مَا يُذكرُ عَنِ الْمَسْحُ أَنَّهُ رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ وَلَهُ ثَلَاتُ وَثَلَا تُونَ سَنَةً ، فَهَذَا لَا يُعْرَفُ لَهُ أَثْرَ مُتَصِل يَجِبُ الْمَصِيرُ إِلَيْهِ ر زاد المعاد في هدي خير العبادة لابن القيم الجوزية الامام الحدث المفتر الفقية شمس الدين ابى عبد الله محمد بن ابی بکر الا عن الدشقی (۷۵۱۰۷۹۱ ) الجزء الاول من مؤسسة الرسالة بیروت شارع سوریا - ترجمہ :۔اور یہ تنویح کے بارہ میں مشہور ہے کہ وہ آسمان پر اٹھا لیے گئے جبکہ ان کی عمر ۳۳ برس تھی ، اس کی کوئی ایسی سند متصل موجود نہیں جس کی بناء پر اس قول کو قبول کیا جائے۔- آٹھویں صدی کے علامہ ابن حیان نے اپنی تغییر سحر المحیط میں اور بارھویں صدی کے علامہ شوکانی نے اپنی تغییر فستح القدیر میں بعض علماء سے توئی کے معنی موت نقل کر کے ان کے وفات مسیح کے قائل ہونے کا ذکر کیا ہے۔- قتل هذَا يَدُلُّ عَلَى اَنَّ اللهَ سُبْحَانَهُ تَوَفَّاهُ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَهُ سمر الحميد جز رابع صلا ناشر مکتبه و مطابع النصر الحديثة - ریاضی ۱۳۵۰ هـ تفسير فتح القدير العلام شوكاني الجزء الثاني من مطبع مصطفى البابي الحلبى مصر