دینیات کی پہلی کتاب — Page 59
۵۹ فیصلہ پر رضامندی ظاہر کی۔جنہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جنگ کے قابل بالغ مرد قتل کئے جائیں اور ان کی عورتیں اور بچے قید کئے جائیں۔چنانچہ اس فیصلہ کے مطابق اُن کے ۳۰۰ بالغ مرد قتل کئے گئے۔اور عورتیں اور بچے قید کر لئے گئے۔اس طرح مدینہ میں آئے دن کے یہودی فتنہ کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو گیا۔صل ذوالقعد من ھمارچ ۶۲۸ ء صح حد : اس سال اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رؤیاء دکھائی کہ آپ صحابہ کے ہمراہ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔چنانچہ آپ اس رویاء کو پورا کرنے کی نیت سے ۱۴۔۱۵ سو صحابہ کی جمعیت لے کر عمرہ کرنے کے ارادہ سے نکلے۔مگر قریش مکہ نے بمقام حد نذیہ (مکہ کے قریب) روک دیا۔آخر آپس میں صلح نامہ ہوا۔جس کی اہم شرطیں مندرجہ ذیل تھیں۔(۱) مسلمان اس سال واپس چلے جائیں۔(۲) اگلے سال بغیر ہتھیاروں کے آئیں۔(۳) جو شخص مکہ سے مسلمان ہو کر مدینہ جائے اُسے واپس کر دیا جائے گا۔(۴) جو مسلمان مدینہ سے مُرتد ہو کر مکہ آجائے۔اُسے واپس نہ کیا جائے گا۔اس صلح کو اللہ تعالیٰ نے فتح مبین کا نام دیا۔کیونکہ اس سے تبلیغ کے لئے بہت راستہ کھل گیا۔ا حضرت سعد کا یہ فیصلہ تورات، استثناء باب ۲۰ آیت ۱۰ تا ۱۵ اور گفتی باب ۳۱ کے بالکل مطابق تھا۔