دینیات کی پہلی کتاب — Page 38
۱۳۸ حضرت عمر کا اسلام لانا حضرت عمر بڑے جری اور سخت طبیعت کے انسان تھے۔اسلام کے بڑے پکے دشمن تھے۔ایک دفعہ غصہ میں آکر ارادہ کیا کہ روز روز کا جھگڑ امٹانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوقتل کر دینا چاہیئے۔اسی ارادے سے تلوار لے کر گھر سے نکلے۔راستہ میں ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے پوچھا۔عمر کدھر جا رہے ہو؟ حضرت عمر نے جواب دیا کہ محمد کا کام تمام کرنے چلا ہوں۔اس مسلمان نے کہا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو کہ تمہاری بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں یہ سنتے ہی فور اور ہیں سے اپنی بہن کے گھر کا رُخ کیا۔پہنچے تو قرآن کی آواز سُنائی دی۔بس پھر کیا تھا آگ بگولا ہو گئے۔اپنے بہنوئی کو مارنے لگے۔بہن بچانے کے لئے سامنے ہوئیں۔بجائے خاوند کے انہیں چوٹ لگی اور خون بہر نکلا۔حضرت عمر کی شرافت طبعی نے جوش مارا کچھ نرم ہوئے۔پھر کہا اچھا کیا پڑھ رہے تھے۔مجھے بھی سُناؤ۔حضرت عمر کی زیرک اور دانا ہمشیر ہ فاطمہ نے کہا۔پہلے غسل کر لو۔پھر قرآن مجید کے پاکیزہ اوراق کو ہاتھ لگا سکتے ہو۔جب وہ نہانے سے فارغ ہوئے تو حضرت فاطمہ نے وہ اوراق اُن کے ہاتھ میں دیئے۔انہوں نے اُٹھا کر دیکھا تو وہ سورہ طا کی ابتدائی آیات تھیں۔پڑھناشروع کر دیا۔جب اس آیت پر پہنچے :۔إِنَّنِي أَنَا الله لَا إِلهُ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَ یقینا میں ہی خدا ہوں میرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔پس تو میری عبادت کر۔اور أَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِيْهِ إِنَّ السَّاعَةَ اتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيْهَا میری یاد کے لئے نماز قائم کر۔یقیناً وہ خاص گھڑی آنے والی ہے۔قریب ہے کہ میں اسے ظاہر کروں