دینیات کی پہلی کتاب

by Other Authors

Page 117 of 134

دینیات کی پہلی کتاب — Page 117

112 آے اب جستجو اُس کی اُس کی ہے امید محال لے چکا ہے دل میرا تو دیر ہائے قادیاں یا تو ہم پھرتے تھے اُن میں یا ہوا یہ انقلاب پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہائے قادیاں خیال رہتا ہے ہمیشہ اس مقام پاک کا سوتے سوتے بھی یہ کہہ اُٹھتا ہوں ہائے قادیاں آہ کیسی خوش گھڑی ہوگی کہ بانیل مرام باندھیں گے رختِ سفر کو ہم برائے قادیاں پہلی اینٹوں ہی رکھتے ہیں نئی اینٹیں ہمیش پر تبھی چرخ چہارم پر بنائے قادیاں ہے صبر کر اے ناقہ راہِ ہدی ہمت نہ ہار دُور کردے گی اندھیروں کو ضیائے قادیاں ایشیا و یورپ و امریکہ و افریقہ سب دیکھ ڈالے پر کہاں وہ رنگ ہائے قادیاں منہ سے جو کچھ چاہے بن جائے کوئی پر حق یہ ہے ہے بہاء اللہ فقط حسن و بہائے قادیاں گلشن احمد کے پھولوں کی اُڑا لائی جو بُو زخم تازہ کر گئی بادِ صبائے قادیاں کبھی تم کو ملے موقع دُعائے خاص کا یاد کر لینا ہمیں اہلِ وفائے قادیاں