دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 7
7 یہاں پہلے نہایت ولولہ انگیز خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا پھر ایک مجلس سوال و جواب سے اثر انگیز خطاب کیا۔آپ کا خطبہ جمعہ اوّل سے آخر تک دعوت الی اللہ کی مؤثر تحریک پر مشتمل تھا۔آپ نے پورے جلال و تمکنت سے فرمایا کہ اسی میں ہماری جان ہے اور یہی ہماری پہچان اور قومی نشان ہے جس سے احمدیوں نے بفضلہ تعالیٰ اپنی دعاؤں اور نمونہ کے ساتھ قلوب عالم کی تسخیر کرنی ہے۔اس تعلق میں سیدی رحمہ اللہ نے موجد شطرنج کے مطالبہ انعام کی طرف اشارہ کیا اور مخلصین احمدیت کو درد بھرے اور مؤثر انداز میں توجہ دلائی کہ ۱۸۸۹ء سے اب تک ہر احمدی ہر سال صرف ایک نیا احمدی بھی بنانے کی کوشش کرتا تو آج ساری دنیا احمدی ہوتی اور جس طرح سمندر پانی کے قطروں سے لبریز ہے اور آسمان بے شمار ستاروں سے چمک دمک رہا ہے اور زمین لا تعداد ذروں سے بھری ہوئی ہے اس طرح ہر جگہ صرف اور صرف احمدیت کا پھر مرا لہراتا ہوا نظر آتا۔گو یہ الفاظ قطعی طور پر میرے ہیں مگر حضرت سیدی صاحبزادہ صاحب کے خطبہ کی اصل روح یقینا یہی تھی۔ہے انہی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں زبان میری ہے بات ان کی موجد شطرنج کا دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ بادشاہ وقت نے اس پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے کہا میں تمہیں منہ مانگا انعام دوں گا۔اُس نے عرض کیا شطرنج کے چونسٹھ خانے ہیں۔اس کے پہلے خانے میں ایک چاول دوسرے خانے میں پہلے خانے سے دُگنے اور تیسرے خانے میں دوسرے سے د گنے ، غرضیکہ اسی طرح علی الحساب چونسٹھ خانے چاولوں سے پر کر دیے جائیں۔بادشاہ نے کہا یہ حقیر مطالبہ ہمارے شایانِ شان نہیں، کسی اور بڑے انعام کا مطالبہ کرو۔موجد نے جواب دیا جس انعام کو آپ معمولی خیال فرماتے ہیں اس کو تمام روئے زمین کے خزانے بھی پورا نہیں کر سکتے۔چنانچہ علم حساب کے شاہی سکالرز نے حساب لگایا تو چاولوں کا مجموعی وزن پچہتر کھرب من کے قریب نکلا۔بادشاہ دنگ رہ گیا اور یہ حیرت انگیز حساب سن کر کہا کہ تمہارا یہ حسن طلب تو تمہارے حسن ایجاد سے بھی بڑھ کر مستحق انعام ہے۔چنانچہ اس فیاض بادشاہ نے اس کو زرکثیر سے مالا مال کر دیا۔تلخیص از کتاب مخزن اخلاق تالیف علامہ رحمت اللہ سبحانی)