دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 114 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 114

114 آخر آنحضرت دوبارہ مکہ میں آباد ہونے کے لیے غار حرا کے قریب پہنچے تو قبائلی دستور کے مطابق آپ نے زید بن حارثہ کو رؤسائے مکہ کے پاس بھیجا کہ کیا وہ مجھے پناہ دے سکتے ہیں۔سبھی نے صاف انکار کر دیا البتہ مکہ کے ایک شریف رئیس اعظم مطعم بن عدی نے آپ کا خیر مقدم کیا۔چنانچہ آنحضور نے انہی کے پاس رات گزاری۔صبح ہوئی تو مطعم بن عدی مسلح ہو کر اونٹنی پر سوار ہوئے اور اپنے سب بیٹوں کو بھی ہتھیار بند کیا جو آنحضور کو تلوار کے سایہ میں لے کر حدود حرم شریف کے قریب لائے۔یہاں پہنچ کر انہوں نے بلند آواز سے اعلان عام کیا کہ اے گروہ قریش میں نے محمد ( ﷺ ) کو پناہ دے دی ہے۔اب انہیں کوئی تکلیف نہ دینا۔یہ گویا داخلہ مکہ کا ویزا‘ تھا جس کے بعد آنحضرت نے حرم میں قدم مبارک رکھا۔نماز ادا کی اور مطعم اور ان کے بیٹے آپ کو تلواروں کے سائے میں گھر تک چھوڑنے آئے۔(مشخص از مواہب لدنیہ، طبقات ابن سعد، طبری) اس بیان یا انٹرویو کے بعد جناب چیف ایڈیٹر صاحب ہند سماچار “ اور ان کے سب رفقا نے خاکسار کی گزارشات پر دلی شکر یہ ادا فرمایا اور اپنے خراج تحسین کا عملی ثبوت دیتے ہوئے پانچ سو روپے بھی ناچیز کو دیئے جو میں نے صدرا انجمن احمد یہ قادیان کے خزانہ میں داخل کرادیئے اور ازاں بعد فی الفور امام ہمام حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے حضور بھی اس ملاقات کی روداد ارسال کر دی کیونکہ سب کامیابیاں خلیفہ راشد کی خصوصی تو جہات اور تاثیرات قدسیہ کی برکت سے ہوتی ہیں۔کلمه آخر: راقم الحروف ایوان خلافت کا ایک فقیر بے نوا ہے۔میں اپنے عمر بھر کے وسیع تجربات کی بنا پر رب ذوالجلال کی قسم کھا کر علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ آج ہر نوع کے فیضان محمدی کے سر چشمہ تک رسائی نظام خلافت کے وسیلہ سے ہی ممکن ہے اور خدا کی پاک جماعت کے ہر فرد یا ادارہ پر تمام برکات فرشتوں کی اُن آسمانی افواج کے ذریعہ نازل ہو رہی ہیں جن کو رب محمد (ﷺ) نے اپنے محبوب خلیفہ کو تاج خلافت پہناتے ہی تابع فرمان کر دیا ہے اور ہر مخلص احمد کی اس کے نائب سے حد درجہ وفا کرتا ہے۔اس نسبت سے خدائی دستے متعین کر دیئے گئے ہیں جو اس کے ہر دینی کام میں