دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 82
82 پہلی حدیث اَبُو بَكْرٍا فُضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِيٌّ (کنوز الحقائق في حديث خیر الخلائق صفحه م) ابوبکر اس امت میں سب سے افضل ہیں سوائے اس کے کہ کوئی نبی امت میں پیدا ہو۔مندرجہ بالا حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ حضور نے إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِی کہ کر ایک استثناء کر دیا اگر کسی نبی کے پیدا ہونے کا امکان ہی نہیں تھا تو اس استثناء کی ضرورت نہیں تھی۔دوسری حدیث آیت خاتم النبیین ۵ھ میں نازل ہوئی 9 ھ میں آنحضرت صلی اللہ عا وسلم کے صاحبزادے ابراہیم پیدا ہوئے اور پھر فوت بھی ہو گئے ان کی وفات پر حضور نے فرمایا: لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا (ابن ماجہ کتاب الجنائز) اگر ابراہیم زندہ رہتا تو ضر ور سچا نبی ہوتا۔اس حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النتین ہونے کے باوجود نبوت کا امکان باقی ہے اگر خاتم انتھین کے سہی معنی ہوتے کہ آئندہ کوئی نبی نہیں ہوگا تو ایسی صورت میں حضور کو یہ فرمانا چاہئے تھا کہ اگر