دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 37
37 غسل کے بعد میت کو کفن پہنایا جائے۔کفن میں مرد کے لئے تین کپڑے ہیں۔ایک کرتہ، ایک تہہ بند اور ایک چادر۔عورت کیلئے ان کے علاوہ سینہ بند اور کمر بند ہے۔یہ کپڑے سلے ہوئے نہیں ہونے چاہئیں۔کرتے سے مراد ایسا کپڑا ہے جو اوپر نیچے گھٹنوں تک آ جائے۔اس کو درمیان میں سے گریبان کی طرح چیر دیا جائے تا کہ سرگذر سکے۔اگر پورا کفن میسر نہ ہو تو ایک چادر یا کمبل میں لپیٹ کر دفن کیا جاسکتا ہے۔۴ فوت ہونے کے بعد کفن دفن میں جلدی کرنی چاہئے تا کہ نعش خراب نہ ہو۔کفن پہنانے کے بعد میت کو ایسی جگہ لے جایا جائے جہاں نماز جنازہ ادا ہو سکے۔یہ نماز مسجد کے باہر ہونی چاہئے۔حسب ضرورت مسجد میں بھی جائز ہے۔لیکن نعش مسجد میں نہ لانی چاہئیے۔محراب کے باہر امام کے سامنے رکھی جاسکتی ہے۔نماز جنازہ: میت امام کے سامنے رکھی جائے۔مقتدی ایک یا تین یا پانچ غرض طاق صفوں میں کھڑے ہوں۔اس نماز میں رکوع اور سجدہ نہیں۔صرف چار تکبیریں ہوتی ہیں۔ہاتھ اُٹھا کر پہلی تکبیر کہے پھر شاء تعوذ و تسمیہ پڑھ کر سورۃ فاتحہ پڑھے۔دوسری تکبیر کے بعد درود شریف پڑھے۔تیسری تکبیر کے بعد ذیل کی دعا پڑھے اور چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیر دے۔