دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 240
240 وو باب ۲ آیات ۱ تا ۸ میں مندرج ایک حوالہ کا تذکرہ از دیا دایمان کا باعث ہے لکھا۔جب عید میسن کا دن آیا تو وہ سب مل کر ایک ہی جگہ میں جمع تھے اور یکبارگی آسمان سے ایسی آواز آئی جیسے تند ہوا کا سناٹا ہوتا ہے اور اس سے سارا گھر جہاں وہ بیٹھے تھے گونج اُٹھا اور آگ کے شعلے کی سی زبانیں انہیں دکھائی دیں اور جدا جدا ہو کر ہرا ہر ایک پر ٹھہریں اور وہ سب روح القدس سے بھر گئے اور دوسری زبانیں بولنے لگے جس طرح روح نے انہیں بولنا عطا کیا۔اور ہر قوم میں سے جو آسمان کے تلے ہے خدا ترس یہودی یروشلم میں رہتے تھے جب آواز سنائی دی تو ہجوم لگ گیا اور لوگ متعجب ہوئے کیونکہ ہر ایک کو یہ سنائی دیتا تھا کہ یہ میری ہی بولی بول رہا ہے اور تعجب کر کے آپس میں کہنے لگے دیکھو یہ جو بولتے ہیں کیا سب جلیلی نہیں۔پس کیونکر ہم میں سے ہر ایک اپنے اپنے وطن کی بولی سنتا ہے“۔سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے ۱۹۹۳ء کی پہلی عالمی بیعت کے موقع پر مندرجہ بالا حوالہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:۔مسیح کے حواریوں پر روح القدس نازل ہوئی اور وہ مختلف بولیاں بولنے لگے جو اس سے پہلے ان کو نہ آتی تھیں اور وہ بولیاں سنے اور سمجھنے لگے اور تعجب کرنے لگے۔جہاں تک میں نے تاریخ پر نظر ڈالی ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ ایسا واقعہ ہوا ہے۔غالب