دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 218 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 218

218 کرتے ہیں۔یہ نفس کا دھوکا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جوسب سے بڑے اور کامیاب داعی الی اللہ تھے وہ ظاہری علوم سے بالکل بے بہرہ تھے۔آپ کے امی ہونے میں ایک یہ حکمت بھی تھی کہ کم علمی کے سوال کو باطل کیا جائے۔جو شخص خدا کو پالیتا ہے اسے دلائل خود بخود آ جاتے ہیں۔پس کتابوں کا سوال بعد میں پیدا ہوتا ہے۔اوّل اور اصل کام یہی ہے کہ خدا تعالیٰ سے ذاتی طور پر مضبوط تعلق قائم کیا جائے۔کسی فرد نے خدا کو پا لیا ہے یا نہیں۔اس کا ثبوت اس کی گفتار اور کردار سے مل سکتا ہے۔جو شخص عمل صالح نہیں رکھتا۔گالی گلوچ سے پر ہیز نہیں کرتا۔دوسروں کے حقوق غصب کرتا ہے۔ظلم کرتا اور لین دین کے معاملات میں صاف نہیں وہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ اس نے خدا کو پالیا ہے۔دعوت الی اللہ کے بارے میں دوسری بات یہ فرمائی کہ وہ بالحكمة ہوئی چاہئے۔حکمت کے بہت سے پہلو ہیں۔مثلاً (۱) موقعہ محل کے مطابق بات کی جائے۔(۲) گفتگو کے دوران سب سے مضبوط دلیل پہلے پیش کی جائے۔(۳) عمومی تبلیغ کے علاوہ بعض سنجیدہ اور مناسب افراد کو منتخب کر کے انہیں پیغام حق پہنچایا جائے۔(۴) منتخب شدہ افراد کو صرف ایک دفعہ تبلیغ کافی نہیں۔سچائی بار بار ان کے گوش گزار کی جائے۔(۵) کوئی شخص بات سنے کیلئے تیار نہ ہوتو اس سے نصیحت کی بات کہہ کر اعراض کیا جائے۔تیسری بات یہ بتلائی کہ دعوت موعظہ حسنہ کے رنگ میں شروع کی جائے۔مخاطب کو جتلایا جائے کہ تبلیغ میں ان کا ذاتی مفاد کوئی نہیں بلکہ اس کی ہمدردی اور