دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 216
216 مختلف مقاصد کی طرف بلانے والوں میں سے سب سے زیادہ حسن اور پیاری آواز اس بلانے والے کی ہے جو اپنے رب کی طرف بلائے لیکن اس کے ساتھ تین شرطیں لگا دیں۔(۱) وہ اللہ کی طرف بلائے (۲) وہ عمل صالح رکھتا ہو۔(۳) وہ اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں۔درحقیقت اس آیت میں مسلمان بننے کی تعریف میں یہ امر شامل کر دیا کہ اس کے لئے داعی الی اللہ ہونا اور عمل صالح بجالا ناضروری ہے۔داعی الی اللہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس دعوت میں بلانے والے کا ذاتی کوئی مقصد پنہاں نہ ہو۔وہ خالصہ اللہ تعالیٰ کی خاطر اس کی طرف بلائے۔من عمل صالح کی تشریح قرآن کریم میں یوں کی گئی ہے کہ :۔إنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بان لَهُمُ الْجَنَّةَ ، (توبه ااا) یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کے نفوس بھی خرید لئے ہیں اور ان کے اموال بھی اور وہ اس کے بدلہ میں انہیں جنت عطا فرمائے گا۔اس سودے میں نفوس کی قربانی بھی طلب کی گئی ہے اور اموال کی بھی اور نفوس کو مقدم کر کے اسے شرط اول قرار دیا ہے۔پس عمل صالح میں جان کی قربانی، وقت کی قربانی اور مال کی قربانی سب آگئیں محض چندے ادا کر کے یہ سمجھ لینا کہ ذمہ داری ادا ہو گئی بالکل غلط ہے۔یہ تو لنگڑا ایمان ہوا جس کی وجہ سے لازماً دعوۃ الی اللہ کے کام میں نقص واقع