دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 168
168 وفات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چوہتر سال عمر پائی۔ساری عمر رات دن خدمت اسلام میں لگے رہے۔جس دن وفات پائی اس سے پہلی شام تک ایک کتاب کی تصنیف میں مشغول تھے۔اس سے اس سوز و گداز اور اس اخلاص و جوش کا پتہ لگتا ہے۔جو آپ کو اللہ تعالیٰ کے جلال کے اظہار اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو ثابت کرنے کیلئے تھا۔جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: فَإِذا رَأَيْتُمُوهُ فَبَا يَعُوهُ وَلَوْ حَبُوا عَلَى الَّمْلُيجِ فَإِنَّهُ خَلِيْفَةُ اللَّهُ المهدى (ابوداؤد جلد ۲ باب خروج المهدی) (بحارالانوار جلد ۱۳ صفحه ۱۲ ابن ماجہ مطبع فاروقی دہلی صفحه ۳۱۰ سطر ۴ باب خروج الا مهدی ) ترجمعہ۔۔۔جب تمہیں اس کا علم ہو جائے تو فورا! اس کی بیعت کرو خواہ تمہیں برف پر سے گھٹنوں کے بل جانا پڑے۔کیونکہ وہ خدا کا خلیفہ مہدی ہو گا۔اسی طرح آنحضرت معلم نے فرمایا کہ جو اسے پہچان لے فَلْيَقْرَ نَهُ مِنّي السَّلام“ اُسے میری طرف سے سلام کہے۔در منشور جلد ۲ صفحه ۴۴۵، بحار الانوار جلد ۳ صفحه ۱۳۸ مطبوعه ایران) یہ گویا اس کے حق میں سلامتی کی دعا اور پیشگوئی تھی۔باوجود اس کے کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ الصلوۃ والسلام کی ہزار مخالفتیں ہوئیں اور آپ کو قتل کرنے کے بہت سے منصوبے کئے گئے مگر خدائی نوشتوں کے مطابق