دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 10
10 جائے گا اور ان سے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ان میں سے جو لوگ خدا اور اس کے رسولوں کے احکام کی پیروی کرنے والے ہونگے وہ جنت میں رکھے جائیں گے لیکن وہ لوگ جو شرک اور ظلم اور فتنہ و فساد میں مبتلا رہے اور گندی زندگی بسر کی اُن کا ٹھکانا دوزخ ہوگا۔دوزخ کا عذاب ایک خاص مدت کیلئے ہو گا لیکن جنت کا انعام دائمی ہوگا جو بھی ختم نہیں ہوگا۔۔ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے وہ اب بھی دیکھتا اور سنتا اور بولتا ہے۔جیسے پہلے دیکھتا، سنتا اور بولتا تھا۔اب بھی وہ پکارنے والے کی پکار کوسنتا اور اس کا جواب دیتا ہے۔اس کا کلام اپنے پیارے بندوں پر ہمیشہ نازل ہوتا رہا ہے اور اب بھی نازل ہوتا ہے۔اس زمانہ کی ہدایت کیلئے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور ان کے ذریعہ سے اپنی قدرتوں اور رحمتوں کے جلوے دنیا کو دکھلائے۔۹۔خدائے تعالیٰ کی تقدیر پر بھی یقین رکھنا ضروری ہے۔یعنی اس بات پر کہ ہر خیر وشر کے اس نے اندازے مقرر کئے ہیں اس کی ایک تقدیر قانونِ قدرت کے رنگ میں جاری ہے جس سے ہر مومن و کافر یکساں متاثر ہوتا ہے۔لیکن ایک تقدیر وہ ہے جو خاص بندوں سے تعلق رکھتی ہے۔عام تقدیر تو یہ ہے کہ طاقتور کمزور پر اور اکثریت اقلیت پر غالب آتی ہے لیکن وہ خاص الخاص خدائی تقدیر تھی جس نے کمزور موسیٰ کو جابر فرعون پر غالب کر دیا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ کو باوجودا کیلے ہونے کے سارے