دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 113 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 113

113 بدر شوم خدائے تعالیٰ کے انبیاء ہمیشہ ایسے زمانہ میں آتے ہیں جب کچی تو حید دنیا سے مٹ جاتی ہے اور مشرکانہ رسوم مذہب کا درجہ اختیار کر لیتی ہیں۔ان کا اور ان کے خلفاء کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ شریعت یعنی بچے دین کو دنیا میں قائم کریں اور جو زائد باتیں یا غلط امور بطور رسم اور بدعت لوگ اپنی طرف سے مذہب میں شامل کر دیتے ہیں ان کو مٹا دیں۔یہی کام اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سپرد ہوا۔آپ حکم اور عدل بن کر تشریف لائے اور آپ کے ذریعہ سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا۔آپ نے شریعت حقہ اسلامیہ کو از سرنو قائم کیا۔تمام بدرسوم کی نشاندہی کر کے اس کے خلاف جہاد کیا اور اُمتِ مسلمہ کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کی۔یہی کام حضور کے خلفاء کا رہا اور وہ بھی اپنے اپنے زمانہ میں مروجہ رسوم کا قلع قمع کرنے میں مصروف رہے۔موجودہ دور میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نور اللہ مرقدہ نے بد رسوم کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہوئے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔” ہماری جماعت کا پہلا اور آخری فرض یہ ہے کہ توحید خالص کو اپنے نفسوں میں بھی اور اپنے ماحول میں بھی قائم کریں اور شرک کی سب کھڑکیوں کو بند کر دیں۔۔۔توحید کے قیام میں ایک بڑی روک بدعت اور رسم ہے یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا