دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 106
106 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کے چار پہلو ہیں۔(۱) چاند کا گرہن کی مقررہ تاریخوں میں سے پہلی رات کو یعنی تیرھویں کو گرہن لگے گا۔(۲) سورج گرہن کے مقررہ دنوں میں سے درمیانی دن یعنی اٹھائیسویں کو گرہن لگنا۔(۳) دونوں گرہنوں کا ایک ہی رمضان میں وقوع پذیر ہونا۔(۴) ایک مہدویت کے دعویدار کا موجود ہونا جس کی صداقت کے لئے یہ نشان ظاہر ہوں ( تفصیل کیلئے دیکھئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب تحفہ گولڑویہ) علم ہیئت کے مطالعہ اور گرہنوں کی تاریخ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں زمین و آسمان کی پیدائش کے وقت سے لیکر ۱۸۹۴ ء تک کبھی ان مقررہ تاریخوں میں سورج وچاند کو گرہن نہیں لگا۔ایسا وقوعہ پہلی مرتبہ ۱۸۹۴ء میں ہوا جب کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام مدعی مہدویت موجود تھے۔اور اس وقت ان کے سوا دنیا میں کوئی مدعی مہدویت موجود نہیں تھا۔یہ نشان ۱۸۹۴ء میں مشرقی نصف کرہ میں ظاہر ہوا۔(دیکھو اخبار آزاد ۱۴ دسمبر ۱۸۹۴ء نیز اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ ۶/ دسمبر ۱۸۹۴ء) پھر انہی شرائط کے ساتھ اگلے سال رمضان کے مہینہ میں ہی سورج اور چاند کو دوسری مرتبہ گر ہن لگا اور یہ گرہن دنیا کے مغربی نصف کرہ میں دیکھا گیا۔