دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 99
99 ”ہندوستان کا ایک بیوقوف محمدی مسیح مجھے بار بار لکھتا ہے کہ یسوع مسیح کی قبر کشمیر میں ہے اور لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو کیوں اس شخص کو جواب نہیں دیتا۔مگر کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دوں گا۔اگر میں ان پر اپنا پاؤں رکھوں تو میں ان کو کچل کر مارڈالوں گا“۔اس پر حضور علیہ السلام نے اپنے مباہلہ کے چیلنج کو دوبارہ دہرایا اور لکھا کہ ڈوئی اگر چہ پچاس برس کا جوان ہے اور میں ستر برس کا ہوں لیکن فیصلے کا انحصار عمروں پر نہیں ہوتا۔احکم الحاکمین اس کا فیصلہ کرے گا۔نیز کہا۔اگر ڈوئی مقابلہ سے بھاگ گیا تب بھی یقینا سمجھو کہ اس کے صحون پر جلد آفت آنے والی ہے“۔(اشتہار ۲۳/ گست ۱۹۰۳ء) اس خدائی پیشگوئی کے بموجب خدا کا قہر اس پر نازل ہوا۔عین اس وقت جب کہ وہ ایک عظیم اجتماع سے خطاب کر رہا تھا اس پر فالج کا حملہ ہوا اور وہ زبان بند کر دی گئی جو آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی تھی۔پھر دماغی فتور اور کئی اور بیماریوں میں مبتلا ہو گیا۔اس پر غبن کا الزام تھا۔شہر میحون تباہ ہو گیا نہ صرف مریدوں نے بلکہ اہل وعیال نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔بیٹے نے کہا کہ وہ دلد الزنا تھا۔بالآخر ہزاروں مصیبتیں اور ذلتیں سہتا ہوا ۱۹ مارچ ۱۹۰۷ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں اس جہان سے رخصت ہوا۔بیوی بچے تک جنازے میں شریک نہ ہوئے۔گھر میں سے