دینی نصاب — Page 283
ربوہ میں آخری خطبہ جمعہ ۲۱ رمئی ۱۹۸۲ ء کو حضور نے ربوہ میں آخری خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔اور ۲۳ رمئی کو حضور اسلام آباد تشریف لے گئے۔حضور کی علالت اور انتقال پر ملال قیام اسلام آباد کے دوران ۲۶ مئی ۱۹۸۲ء کو حضور پر نور کی طبیعت علیل ہوگئی۔بروقت علاج سے بفضل تعالیٰ افاقہ ہو گیا۔لیکن اس مئی کو اچانک طبیعت پھر خراب ہوگئی۔ڈاکٹری تشخیص سے معلوم ہوا کہ دل کا شدید حملہ ہوا ہے۔علاج کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور ۸ / جون تک صحت میں بتدریج بہتری پیدا ہوتی گئی۔لیکن ۸-۹ جون یعنی منگل بدھ کی درمیانی شب پونے بارہ بجے کے قریب دل کا دوبارہ شدید حملہ ہوا اور بقضائے الہی پونے ایک بجے شب ” بیت الفضل اسلام آباد میں حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔9 جون ۱۹۸۲ء کو حضور کا جسد اطہر اسلام آباد سے ربوہ لایا گیا۔۱۰ جون کو سید نا حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے بعد نماز عصر احاطہ بہشتی مقبرہ میں نماز جنازہ پڑھائی جس میں ایک لاکھ کے قریب احباب شریک ہوئے۔نماز جنازہ کے بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے پہلو میں جانب شرق حضور کی تدفین عمل میں لائی گئی۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے ۷۳ سال کی عمر پائی۔اولاد صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا فرید احمد صاحب،صاحبزادہ مرز القمان احمد صاحب،صاحبزادی امتہ الشکور بیگم صاحبہ، صاحبزادی امتہ العلیم بیگم صاحبہ۔283