دینی نصاب

by Other Authors

Page 210 of 377

دینی نصاب — Page 210

چوتھا ایڈیشن) چنانچہ یہ الہام ۱۹۲۴ ء میں اس طرح پورا ہوا کہ افغانستان کے اسی شاہی خاندان کے آخری حکمران امیر امان اللہ خاں کے حکم سے جماعت احمدیہ کے تین اور احباب یعنی حضرت مولوی نعمت اللہ خاں صاحب ، حضرت مولوی عبد الحکیم صاحب اور ملا نو ر علی صاحب صرف احمدیت کی وجہ سے شہید کر دیئے گئے۔اوّل الذکر ۱ ۳ اگست ۱۹۲۴ ء کو شہید کئے گئے اور دوسرے دو افراد ۱۲ فروری ۱۹۲۵ کو شہید کئے گئے۔اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ افغانستان کا یہ شاہی خاندان بے گناہ احمدیوں کے خون سے ہاتھ رنگے گا۔اس لئے اس علام الغیوب خدا نے ایک اور خبر’ آہ نادرشاہ کہاں گیا“ کے الفاظ میں دی اور فر ما دیا کہ یہ خاندان اپنے کئے کی سزا بھگتے گا۔چنانچہ ۱۹۲۹ ء میں ایک نہایت ہی معمولی شخص جیب اللہ خاں المعروف بچہ سقہ کے ہاتھوں اس خاندان کا تختہ الٹ گیا اور وہ وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔اس وقت نادر خاں نامی ایک جرنیل فرانس میں بیمار پڑا تھا۔افغانوں نے اُسے بلایا اور وہ افغانستان کا بادشاہ بن گیا۔اُس نے ”خان" کا ملکی لقب ترک کر کے ” شاہ کا لقب اختیار کیا اور نادر شاہ کہلانے لگا۔پھر ۸ نومبر ۱۹۳۳ء کو عین دن کے وقت ایک شخص عبد الخالق نے ایک بڑے مجمع میں اسے قتل کر دیا۔اس طرح نادرشاہ کی بے وقت اور اچانک موت نے نہ صرف افغانستان بلکہ دنیا کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلوادیئے کہ آہ نادر شاہ کہاں گیا۔“ ۳ لیکھرام کے متعلق پیشگوئی لیکھرام ہندوستان کے آریہ سماج فرقہ کا ایک لیڈر تھا جو بہت گندہ دہن تھا۔اور اسلام پر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر رکیک حملے کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود نے اُسے بہت سمجھایا اور ان باتوں سے باز رکھنے کی کوشش کی لیکن وہ شرارت، شوخی اور بدگوئی میں بڑھتا گیا۔اس پر حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ سے دُعا کی تو آپ کو بتایا گیا کہ :- 210