دینی نصاب

by Other Authors

Page 148 of 377

دینی نصاب — Page 148

ایک کثیر التعداد جماعت جو تاجر پیشہ ہو اور اپنا تجارتی سامان دنیا میں اُٹھائے پھرے اور جو نہایت مالدار اور خزانوں والی ہو اور جو تمام دنیا کو اپنی سیر و سیاحت سے قطع کر رہی ہو اور ہر جگہ پہنچی ہوئی ہو اور گویا کوئی جگہ اس سے خالی نہ رہی ہو اور مذہباً وہ ایک نہایت جھوٹے عقیدہ پر قائم ہو“۔اب اس کیفیت کے ساتھ اس کیفیت کو ملا ؤ جو حدیث نبوی میں بیان ہوئی ہے اور جس کا خلاصه او پر درج کیا گیا ہے تو فورا بلا تامل طبیعت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ دجال سے مغربی ممالک کی مسیحی اقوام مراد ہیں جو اس زمانہ میں تمام روئے زمین پر چھا رہی ہیں اور جن میں تمام مذکورہ بالا حالات واضح طور پر پائے جاتے ہیں۔انکا یک چشم ہونا ان کی مادیت ہے جس نے ان کے دین کی آنکھ کو بند کر رکھا ہے۔ہاں دنیا کی آنکھ خوب کھلی اور روشن ہے۔ان کی آنکھوں کے درمیان کا فر کا لفظ لکھا ہونے سے انکا بدیہی البطلان الوہیت مسیح کا عقیدہ مراد ہے جسے ہر سچا مومن خواہ وہ خواندہ ہو یا نا خواندہ پڑھ سکتا ہے اور ان کا زمین و آسمان میں تصرفات کرنا اور خزانے نکالنا اور زندہ کرنا اور مارنا وغیرہ سے ان کے علوم جدیدہ اور سائنس وغیرہ کی طاقتوں اور سیاسی غلبہ کی طرف مجازی طور پر اشارہ ہے ورنہ از روئے حقیقت تو یہ امورسب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور ان کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرنا کفر ہے اور دقبال کے ساتھ جنت و دوزخ کا ہونا یہ ہے کہ جو شخص ان کے ساتھ ہو جاتا ہے اور ان کی بات مانتا ہے اور ان کے مذہب کو اختیار کرتا ہے وہ ظاہراً ایک جنت میں داخل ہو جاتا ہے گو دراصل وہ دوزخ ہوتا ہے اور جو شخص اُن کے بد خیالات سے الگ رہتا ہے اس کو ظاہراً ایک دوزخ برداشت کرنا پڑتا ہے گو دراصل وہ جنت ہوتی اور اُن کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہر کا ہونا تو ایک بین چیز ہے جس کی تشریح کی ضرورت نہیں اور دجال کے گدھے سے جس کے دوکانوں کے درمیان کا فاصلہ ستر گز ہے ظاہری گدھا مراد نہیں بلکہ اس سے ریل مراد ہے جو پرانے زمانے کے سواری والے گدھوں 148