دینی نصاب — Page 140
وارد ہوا ہے اس سے قیامت گبری سمجھنے لگ جاتے ہیں۔مگر یہ بھی ایک خطر ناک غلطی ہے۔بات یہ ہے کہ ساعت اور قیامت کا لفظ عربی زبان میں قیامت کبری کیلئے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ لفظ ہر بڑے انقلاب کے متعلق بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اس لحاظ سے خلافت راشدہ کے زمانہ کے فتنے بھی ساعت تھے حضرت امام حسین کی شہادت بھی ایک ساعت تھی۔بنو امیہ کی تباہی بھی ایک ساعت تھی۔بغداد اور بنو عباس کی تباہی بھی ایک بڑی قیامت اور ساعت تھی۔سپین سے مسلمانوں کا اخراج بھی ایک ساعت تھی۔اور اسی طرح اسلامی تاریخ کے سب بڑے بڑے تغیرات اور انقلابات ساعات ہیں اور احادیث نبوی میں جو ساعت کی علامات بتائی گئی ہیں وہ سب قیامت کبری کے متعلق نہیں ہیں بلکہ بعض ان درمیانی ساعتوں کے متعلق بھی ہیں۔یعنی کوئی حدیث کسی ساعت کے متعلق ہے تو کوئی کسی اور کے متعلق۔اور بعض علامات ساعت کبری کے متعلق بھی ہیں۔یہ ایک ایسی بین حقیقت ہے کہ جو شخص ذرا بھی تدبر سے کام لے اور تاریخ اسلام کو زیر نظر رکھے وہ اس کا انکار نہیں کر سکتا۔کیونکہ بعض علامات نے درمیانی ساعتوں پر ظاہر ہو کر اس حقیقت پر عملاً مہر تصدیق ثبت کر دی ہے اندریں حالات ہمارا سب سے پہلا فرض یہ ہونا چاہئیے کہ ہم غور و تد تبر کر کے اُن علامات کو تلاش کریں جو مسیح و مہدی کے زمانہ یا وجود کی مخصوص علامات ہیں۔سیح و مہدی کی دس اہم موٹی علامات سوجاننا چاہئیے کہ قرآن شریف اور احادیث سے جو موٹی موٹی علامات مسیح موعود اور مہدی معہود کی ثابت ہوتی ہیں اور جن سے غالباً ہر مسلمان کم و بیش واقف ہے یہ ہیں:۔ا۔مسیح موعود کا زمانہ ایسا ہو گا جس میں آمد و رفت کے وسائل بہت ترقی کرجائیں گے اور گویا ساری دنیا ایک ملک کا رنگ اختیار کر لے۔اور نئی نئی قسم کی سواریاں نکل آئیں گی 140