دینی معلومات — Page 11
ترجمہ : جب تک میں ان میں (موجود) رہا میں ان کا نگران رہا۔مگر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان پر نگران تھا میں نہ تھا)۔(المائدہ: 118) صداقت مسیح موعود ط فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ – أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (ترجمہ) اس سے پہلے میں ایک عرصہ دراز تم میں گزار چکا ہوں۔کیا پھر ( بھی ) تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ (سورۃ یونس:17) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تم غور کرو کہ وہ شخص جو تمہیں اس سلسلہ کی طرف بلاتا ہے وہ کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے اور کس قدر دلائل پیش کرتا ہے اور تم کوئی عیب، افتراء یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تا تم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افتراء کا عادی ہے یہ بھی اس نے جھوٹ بولا ہو گا۔کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے۔پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اُس نے ابتداء سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لئے یہ ایک دلیل ہے۔“ (تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 64) مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں لکھا: ” مؤلف براہین احمدیہ مخالف و موافق کے تجربے اور مشاہدہ کی روسے (والله حسیبہ) شریعت محمدیہ پر قائم و پر ہیز گار اور صداقت شعار ہے۔“ اشاعۃ السنۃ شمارہ جون، جولائی، اگست 1884ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 1 صفحہ 172) 11