دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 462

نہیں کرتا کہ تم مسیح کے کفارہ پر ایمان لائو تو میں تمہیں معاف کر دوں گا۔لیکن اگر مسیح کی صلیبی موت پر ایمان لانے سے دل کی پاکیزگی مراد ہے تو عیسائی دنیا کا عمل اس امر کی تردید کر رہا ہے کہ کفارہ پر ایمان لانے سے دل کو پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔جتنی خرابی اور جتنا فسق و فجور اس ز مانہ میں عیسائی دنیا میں ہورہا ہے باقی دنیا میں اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔آخر وہ کیا چیز ہے جو مسیح کے کفارہ نے عیسائیوں کو دی۔اگر نجات دی ہے تو میں بتا چکا ہوں کہ نجات کا صحیح طریق تو سچی توبہ ہے اور اسی ذریعہ سے مسیح سے پہلے انبیاء کی اُمتوں نے نجات پائی اور اگر اس سے مراد دل کی پاکیزگی ہے تو دل کی پاکیزگی باوجود کفارہ کے عیسائیوں کو حاصل نہیں ہوئی۔میں یہ نہیں کہتا کہ کسی عیسائی کے دل میں صفائی نہیں مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ کسی عیسائی کے دل کی پاکیزگی کفارہ پر ایمان لانے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کا دل بھی اسی طرح صاف ہوا ہے جس طرح باقی دنیا کا توبہ اور ندامت سے صاف ہوا کرتا ہے یا عبادات سے ہوا کرتا ہے جیسے خود حضرت مسیح نے کہا کہ : ’’ یہ قسم دعا کے سوا کسی اور طرح نہیں نکل سکتی‘‘۔۵۷۴؎ صفاتِ الٰہیہ جو قرآن مجید میں مذکور ہیں مذکورہ بالا چاروں صفات کی تشریح میں خدا تعالیٰ کی مختلف صفتیں جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں ہم ان کی تفصیل اس جگہ بیان نہیں کر سکتے۔صرف اختصار کے ساتھ ان صفات کا ذکر کر دیتے ہیں جو یہ ہیں۔اَلْمَلِکَ وہ بادشاہ ہے