دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 457

بھی ہے وہ سب اسی کا پید اکیا ہوا ہے فرماتا ہے۵۶۸؎ آسمان اور زمین کو پیدا کرنے والا خدا ہی ہے اس کے بیٹا ہو کس طرح سکتا ہے جبکہ اس کی کوئی بیوی نہیں اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہرچیز کو جانتا ہے۔۵۶۹؎ یہ ہے اللہ تمہیں ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف لے جانے والا۔اس کے سوا کوئی اور معبود نہیںوہ ہرچیز کو پیدا کرنے والا ہے پس اُس کی عبادت کرو اور ہر چیز کا انتظام اسی کے قبضہ میں ہے۔ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ زمین اور آسمان کی پیدائش کا موجب اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر اُسے کسی بیٹے کی ضرورت کیا تھی کیونکہ بیٹے کا وجود یا تو اتفاقی حادثہ کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے یا ضرورت کیلئے۔اتفاقی حادثہ اس طرح ہوتا ہے کہ نر مادہ سے ملتے ہیں اور طبعی طور پر اس کے نتیجہ میں اولاد پیدا ہو جاتی ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تو کوئی بیوی نہیں بیٹا کہاں سے آجائے گا اور اگر کہو کہ خدا تعالیٰ نے ایک نیا وجود بنایا اور اس کو بیٹے کا مقام دیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیٹے کی غرض تو یہی ہوا کرتی ہے کہ انسان کے کاموں میں مدد دے اور اس کے بعد اس کے نام کو قائم رکھے مگر وہ خدا جو ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے کیا وہ بھی اسی قسم کی احتیاج رکھتا ہے پھر وہ بیٹا بناتا ہی کیوں۔پھر فرماتا ہے وہ ہر چیز کو جانتا ہے یعنی بعض دفعہ انسان احتیاطاً ایک سامان پیدا کر لیتا ہے کہ نہ معلوم آئندہ کیا ہو جائے لیکن خدا تعالیٰ کیلئے تو یہ خوف بھی نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔وہ ان تمام باتوں کو جانتا ہے جو گزشتہ زمانہ میں ہو چکیں اور ان تمام باتوں کو جانتا ہے جو آئندہ زمانوں میںہونے والی ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کو کسی احتیاط کی ضرورت نہیں۔پھر فرماتا ہے یہ وہ خدا ہے جس نے تم کو ادنیٰ حالت سے پیدا کرکے اعلیٰ درجہ کی ترقی تک پہنچایا اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں تمام موجودات کو پیدا کرنے والا وہی ہے۔ایرانی اور اسرائیلی اور عرب اور ہندو ہونا خدا تعالیٰ کی نظر میںکوئی امتیازی چیز نہیں اُس کے لیے یہ سب برابر ہیں۔اُسی نے ان سب کو پیدا کیا اور اُسی نے ان سب کو آہستہ آہستہ ترقی بخشی۔پس ان سب کیلئے ضروری ہے کہ اس واحد خدا کی پرستش کریں اور یاد رکھیںکہ