دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 376

توڑی نہ آپ کی خوش مزاجی پر کوئی اثر ڈالا۔دل کے زخم کبھی آنکھوں سے نہیں رِسے۔چہرہ ہر ایک کے لئے بشاش ہی رہا اور شاذ و نادر ہی کسی موقع پر آپ نے اس درد کا اظہار کیا۔ایک دفعہ ایک عورت جس کا لڑکا فوت ہوگیا تھا اپنے لڑکے کی قبر پر ماتم کر رہی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے تو آپ نے فرمایا۔اے عورت! صبر کر۔خدا کی مشیّت ہر ایک پر غالب ہے۔وہ عورت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتی نہ تھی اس نے جواب دیا جس طرح میرا بچہ مرا ہے تمہارا بچہ بھی مرتا تو تمہیں معلوم ہوتا کہ صبر کیا چیز ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف یہ کہہ کر وہاں سے آگے چل دیئے۔ایک نہیں میرے تو سات بچے فوت ہو چکے ہیں۔۴۵۰؎ پس اس قسم کے موقع پر اتنا اظہار تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گزشتہ مصائب پر کبھی کر دیتے تھے ورنہ بنی نوع انسان کی خدمت میں کوئی کوتاہی ہوئی نہ آپ کی بشاشت میں کوئی فرق آیا۔تحمل تحمل آپ میں اِس قدر تھا کہ اُس زمانہ میں بھی کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے بادشاہت عطا فرما دی تھی آپ ہر ایک کی بات سنتے۔ا گر وہ سختی بھی کرتا تو آپ خاموش ہو جاتے اور کبھی سختی کرنے والے کا جواب سختی سے نہ دیتے۔مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے نام کی بجائے آپ کے روحانی درجہ سے پکارتے تھے یعنی یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!کہہ کر بُلاتے تھے اور غیرمذاہب کے لوگ ایشیائی دستور کے مطابق آپ کا ادب اور احترام اس طرح کر تے تھے کہ بجائے آپ کو محمد کہہ کر بلانے کے ابوالقاسم کہہ کر بلاتے تھے جو آپ کی کنیت تھی ( ابو القاسم کے معنی ہیں قاسم کا باپ۔قاسم آپ کے ایک بیٹے کا نام تھا) ایک دفعہ ایک یہودی مدینہ میں آیا اور اس نے آپ سے آکر بحث شروع کر دی۔بحث کے دوران میں وہ بار بار کہتا تھا۔اے محمد! بات یو ں ہے، اے محمد! بات یوں ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بغیر کسی انقباض کے اس کی باتوں کا جواب دیتے تھے۔مگر صحابہؓ اُس کی یہ گستاخی دیکھ کر بیتاب ہورہے تھے۔آخر ایک صحابیؓ سے نہ رہا گیا اور اُس نے یہودی سے کہا کہ خبردار! آپ کا نام لے کر بات نہ کرو تم رسول اللہ نہیں کہہ سکتے تو کم سے کم ابوالقاسم کہو۔یہودی نے کہا میں تو وہی نام لوں گا جو اِن کے ماں باپ