دیباچہ تفسیر القرآن — Page 343
ہیں کہ ہمیں وہاں تک پہنچنے کا سامان مل جائے۔قرآن کریم میں ان لوگوں کا ذکر ان الفاظ میں آتا ہے۳۷۸؎ یعنی اِس جنگ میں شریک نہ ہو نے کا ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں جو تیرے پاس اس لئے آتے ہیں کہ توا ن کے لئے ایسا سامان مہیا کر دے جس کے ذریعہ سے وہ وہاں پہنچ سکیں مگر تو نے انہیں کہا کہ میرے پاس تو تمہیں وہاں پہنچانے کا کوئی سامان نہیں۔تب وہ تیری مجلس سے اُٹھ کر چلے گئے اور اُن کی آنکھوں سے اس غم میں آنسو بہتے تھے کہ افسوس ان کے پاس کوئی مال نہیں جس کو خرچ کرکے وہ آج اسلامی خدمت کر سکیں۔ا بوموسیٰ ان لوگوں کے سردار تھے جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مانگا تھا؟ توا نہوں نے کہا خد اکی قسم! ہم نے اُونٹ نہیں مانگے، ہم نے گھوڑے نہیں مانگے، ہم نے صرف یہ کہا تھا کہ ہم ننگے پائوں ہیں اور اتنا لمبا سفر پیدل نہیں چل سکتے اگر ہم کو صرف جوتیوں کے جوڑے مل جائیں تو ہم جوتیاں پہن کر ہی بھاگتے ہوئے اپنے بھائیوں کے ساتھ اِس جنگ میں شریک ہونے کے لئے پہنچ جائیں گے۔۳۷۹؎ چونکہ لشکر کو شام کی طرف جانا تھا اور موتہ کی جنگ کا نظارہ مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے تھا اس لئے ہر مسلمان کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کی حفاظت کا خیال سب خیالوں پر مقدم تھا۔عورتیں تک بھی اس خطرہ کو محسوس کر رہی تھیں اور اپنے خاوندوں اور اپنے بیٹوں کو جنگ پر جانے کی تلقین کر رہی تھیں۔اس اخلاص اور اس جوش کا اندازہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک صحابی جو کسی کام کے لئے باہر گئے ہوئے تھے اُس وقت واپس لَوٹے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر سمیت مدینہ سے روانہ ہو چکے تھے۔ایک عرصہ کی جدائی کے بعد جب وہ اِس خیال سے اپنے گھر میں داخل ہوئے کہ اپنی محبوبہ بیوی کو جا کر دیکھیں گے اور خوش ہو ںگے تو انہوں نے اپنی بیوی کو صحن میں بیٹھے ہوئے دیکھا اور محبت سے بغل گیر ہوئے اور پیار کرنے کے لئے تیزی سے اس کی طرف آگے بڑھے۔جب وہ بیوی کے قریب گئے تو اُن کی بیوی نے ددنوں ہاتھوںسے اُن کو دھکا دے کر پیچھے ہٹا دیا۔اُس صحابی نے حیرت سے اپنی بیوی کا منہ