دیباچہ تفسیر القرآن — Page 341
ہوازؔن سے فارغ ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لے گئے۔یہ مدینہ والوں کے لئے پھر ایک نیا خوشی کا دن تھا۔ایک دفعہ خدا کا رسول مکہ کے لوگوں کے ظلم سے تنگ آکر مدینہ کی طرف روانہ ہوا تھا اورآج خدا کا رسول مکہ فتح کرنے کے بعد اپنی خوشی سے اور اپنے عہد کو نبھانے کے لئے دوبارہ مدینہ میں داخل ہو رہا تھا۔غزوۂ تبوک جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو ابو عامر مدنی جو خزرج قبیلہ میں سے تھا اور یہودیوں اور عیسائیوں سے میل ملاقات کی وجہ سے ذکرو وظائف کرنے کا عادی تھا اور اِس کی وجہ سے لوگ اس کو راہب کہتے تھے مگر مذہباً عیسائی نہیں تھا۔یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں پہنچ جانے کے بعد مکہ کی طرف بھا گ گیا تھا۔جب مکہ بھی فتح ہو گیا تو یہ سوچنے لگا کہ اب مجھے اسلام کے خلاف شورش پیدا کرنے کے لئے کوئی اور تدبیر کرنی چاہئے۔آخر اس نے اپنا نام اور طرز بدلی اور مدینہ کے پاس قبا نامی گائوں میں جا کر رہنا شروع کیا۔سالہا سال باہر رہنے کی وجہ سے اور کچھ شکل اور لباس میں تبدیلی کر لینے کی وجہ سے مدینہ کے لوگوں نے عام طور پر اس کو نہ پہچانا۔صرف وہی منافق اِس کو جانتے تھے جن کے ساتھ اِس نے اپنا تعلق پیدا کر لیا تھا۔اس نے مدینہ کے منافقوں کے ساتھ مل کر یہ تجویز کی کہ میں شام میں جا کر عیسائی حکومت اور عرب عیسائی قبائل کو بھڑکاتا ہوں اور اُن کو مدینہ پر حملہ کرنے کی تحریک کرتا ہوں۔اِدھر تم یہ مشہور کرنا شروع کر دو کہ شامی فوجیں مدینہ پر حملہ کر رہی ہیں۔اگر میری سکیم کامیاب ہو گئی تو پھر بھی ان دونوں کی مٹھ بھیڑ ہو جائے گی اور اگر میری سکیم کامیاب نہ ہوئی توان افواہوں کی وجہ سے مسلمان شاید شام پر جا کر خود حملہ کر دیں اور اس طرح قیصر کی حکومت اور ان میں لڑائی شروع ہو جائے گی اور ہمارا کام بن جائے گا۔چنانچہ یہ تحریک کر کے یہ شخص شام کی طرف گیا اور مدینہ کے منافقوں نے روزانہ مدینہ میں یہ خبریں مشہور کرنی شروع کر دیں کہ فلاں قافلہ ہمیں ملا تھا اور اُس نے بتایا تھا کہ شامی لشکر مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔دوسرے دن پھر کہدیتے تھے کہ فلاں قافلہ کے لوگ ہمیں ملے تھے اور اُنہوں نے کہا تھا کہ مدینہ پر شامی لشکر چڑھائی کرنے والا ہے۔یہ خبریں اتنی شدت سے پھیلنی شروع ہوئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ آپ اسلامی لشکر لے کر خود