دیباچہ تفسیر القرآن — Page 338
اِس کے اندر ایسی تبدیلی کر دی ہے کہ یہ مکہ کا کمانڈر ایک عام سپاہی کی حیثیت میں میری خچر کی رکاب پکڑے کھڑا ہے اور اِس کا چہرہ بتا رہا ہے کہ یہ آج اپنی موت سے اپنے گناہوں کا ازالہ کرے گا) عباسؓ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حیرت سے ابوسفیان کی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا تو کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! یہ ابوسفیان آپ کے چچا کا بیٹا اور آپ کا بھائی ہے آج تو آپ اِس سے خوش ہو جائیں۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اِس کی وہ تمام دشمنیاں معاف کرے جو کہ اِس نے مجھ سے کی ہیں۔ابوسفیان کہتے ہیں کہ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا اے بھائی! تب میں نے جوشِ محبت سے آپ کے اُس پیر کو جو خچر کی رکاب میں تھا چوم لیا۔فتح مکہ کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے وہ جنگی سامان جو آپ نے عاریتہ لیا تھا اُس کے مالکوں کو واپس کیا اور ساتھ اُس کے بہت سا انعام واکرام بھی دیا توا ن لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ یہ شخص اِس زمانہ کے عام انسانوں جیسا نہیں۔چنانچہ صفوان اُسی وقت اسلام لے آئے۔اِس جنگ کا ایک اور عجیب واقعہ بھی تاریخوں میں آتا ہے۔شیبہ نامی ایک شخص جو مکہ کے رہنے والے تھے اور جو خانہ کعبہ کی خدمت کے لئے مقرر تھے وہ کہتے ہیں میں بھی اِس لڑائی میں شامل ہوا مگر میر ی نیت یہ تھی کہ جس وقت لشکر آپس میں ملیں گے تو میں موقع پا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دوں گا اور میں نے دل میں کہا عرب اور غیر عرب لوگ تو الگ رہے اگر ساری دنیا بھی محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے مذہب میں داخل ہو گئی تو میں نہیں ہوں گا۔جب لڑائی تیزی پر ہوئی اور اِدھر کے آدمی اُدھر کے آدمیوں میں مل گئے تو میں نے تلوار کھینچی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونا شروع کیا۔اُس وقت مجھے یوں معلوم ہوا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کا ایک شعلہ اُٹھ رہا ہے جو قریب ہے کہ مجھ بھسم کر دے۔اُس وقت مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی دی کہ شیبہ! میرے قریب ہو جائو۔میں جب آپ کے قریب گیا تو آپ نے میرے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور کہا اے خدا! شیبہ کو شیطانی خیالوں سے نجات دے۔شیبہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پھیرنے کے ساتھ ہی میرے دل سے ساری دشمنیاں اور عداوتیں اُڑ گئیں اور اُس وقت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو اپنی آنکھوں سے ا