دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 312

سالی میمونہ جو دیر سے بیوہ ہو چکی تھیں مکہ میں تھیں حضرت عباسؓ نے خواہش کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس سے شادی کر لیں اور آپ نے اسے منظور فرما لیا۔چوتھے دن مکہ والوں نے مطالبہ کیا کہ آپ حسب معاہدہ مکہ سے نکل جائیں اور آپ نے فوراً تمام صحابہؓ کو حکم دیا کہ فوراً مکہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف روانہ ہو جائیں۔مکہ والوں کے احساسات کا خیال کر کے نئی بیاہی ہوئی میمونہؓ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا کہ وہ بعد میں اسباب کی سواریوں کے ساتھ آجائیں اور خود اپنی سواری دَوڑا کر حرم کی حدود سے باہر نکل گئے اور وہیں شام کے وقت آپ کی بیوی میمونہؓ کو پہنچایا گیا اور پہلی رات وہیں جنگل میں میمونہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوئیں۔۳۴۴؎ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمکے تعددِ ازواج پر اعتراض کا جواب یہ واقعہ ایسا نہیں ہے کہ اس کو ایسی مختصر سیرت میں بیان کیا جاتا، جس قسم کی سیرت میں اِس وقت لکھ رہا ہوں لیکن اس واقعہ کا ایک ایسا پہلو ہے جو مجھے مجبور کرتا ہے کہ اس معمولی سے واقعہ کو اِس جگہ لکھ دوں اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اُن کی کئی بیویاں تھیں اور یہ کہ آپ کا یہ فعل نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ عیاشی پر مبنی تھا مگر جب ہم اس تعلق کو دیکھتے ہیں جو آپ کی بیویوں کو آپ کے ساتھ تھا تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ آپ کا تعلق ایسا پاکیزہ، ایسا بے لوث اور ایسا روحانی تھا کہ کسی ایک بیوی والے مرد کا تعلق بھی اپنی بیوی سے ایسا نہیں ہوتا۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق اپنی بیویوں سے عیاشی کا ہوتا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہئے تھا کہ آپ کی بیویوں کے دل کسی روحانی جذبہ سے متأثر نہ ہوتے۔مگر آپ کی بیویوں کے دل میں آپ کی جو محبت تھی اور آپ سے جو نیک اثر انہوں نے لیا تھا وہ بہت سے ایسے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی بیویوں کے متعلق تاریخ سے ثابت ہے۔مثلاً یہی واقعہ کتنا چھوٹا سا تھا کہ میمونہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلی دفعہ حرم سے باہر ایک خیمہ میں ملیں۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُن سے تعلق کوئی جسمانی تعلق ہوتا، اور اگر آپ بعض بیویوں کو بعض پر ترجیح دینے والے ہوتے تو میمونہؓ اِس واقعہ کو اپنی زندگی کا کوئی اچھا واقعہ نہ سمجھتیں بلکہ