دیباچہ تفسیر القرآن — Page 249
منہ سے یہ بات نکلی ہے کہ خد اکا نبی ذلیل ہے اور تم معزز ہو اُسی منہ سے تم کو یہ بات کہنی ہو گی کہ خد اکا نبی معزز ہے اور تم ذلیل ہو۔جب تک تم یہ نہ کہو میں تمہیں ہرگز آگے نہ جانے دوں گا۔عبداللہ بن ابی بن سلول حیران اور خوفزدہ ہو گیا اور کہنے لگا اے میرے بیٹے! میں تمہارے ساتھ اتفاق کرتا ہوں، محمد معزز ہے اور میں ذلیل ہوں۔نوجوان عبداللہ نے اس پر اپنے باپ کو چھوڑ دیا۔۲۷۷؎ مدینہ پر سارے عرب کی چڑھائی غزوہ خندق اس سے پہلے یہود کے دو قبیلوں کا ذکر کیا جا چکا ہے جو لڑائی، فساد،قتل اور قتل کرنے کے منصوبوں کی وجہ سے مدینہ سے جلاوطن کر دیئے گئے تھے۔ان میں سے بنو نضیر کا کچھ حصہ تو شام کی طرف ہجرت کر گیا تھا اور کچھ حصہ مدینہ سے شمال کی طرف خیبر نامی ایک شہر کی طرف ہجرت کر گیا تھا۔خیبر عرب میں یہود کا ایک بہت بڑا مرکز تھا اورایک قلعہ بند شہر تھا۔یہاں جا کر بنو نضیر نے مسلمانوں کے خلاف عربوں میں جوش پھیلانا شروع کیا۔مکہ والے تو پہلے ہی مخالف تھے، کسی مزید انگیخت کے محتاج نہ تھے۔اسی طرح غطفان نامی نجد کا قبیلہ جو عرب کے قبیلوں میں بہت بڑی حیثیت رکھتا تھا وہ بھی مکہ والوں کی دوستی میں اِسلام کی دشمنی پر آمادہ رہتا تھا۔اب یہود نے قریش اور غطفان کو جوش دلانے کے علاوہ بنو سلیم اور بنواسد دو اَور زبردست قبیلوں کو بھی مسلمانوں کے خلاف اُکسانا شروع کیا اور اسی طرح بنوسعد نامی قبیلہ جو یہود کا حلیف تھا اُس کو بھی کفّارِ مکہ کاساتھ دینے کے لئے تیا رکیا۔ایک لمبی تیاری کے بعد عرب کے تمام زبردست قبائل کے ایک اتحادِ عام کی بنیاد رکھ دی گئی جس میں مکہ کے لوگ بھی شامل تھے۔مکہ کے اِردگرد کے قبائل بھی تھے اور نجد اور مدینہ سے شمال کی طرف کے علاقوں کے قبائل بھی شامل تھے اور یہود بھی شامل تھے۔اِن سب قبائل نے مل کر مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لئے ایک زبردست لشکر تیار کیا۔یہ ماہ شوال ۵ہجری آخر فروری و مارچ ۶۲۷ء کا واقعہ ہے۔۲۷۸؎ مختلف مؤرخوں نے اس لشکر کا اندازہ دس ہزار سے چوبیس ہزار تک لگایا ہے۔لیکن ظاہر ہے کہ تمام عرب کے اجتماع کا نتیجہ صرف دس ہزار سپاہی نہیں ہو سکتا یقینا چوبیس ہزار والا