دیباچہ تفسیر القرآن — Page 203
خوداُمِّ عمارہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سی جنگوں میں شامل ہوئیں۔غرض یہ ایک مخلص اور ایمان والا قافلہ تھا جس کے افراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دولت اور مال مانگنے نہیں آئے تھے بلکہ صرف ایمان طلب کرنے آئے تھے۔عباسؓ نے اُن کو مخاطب کر کے کہا اے خزرج قبیلہ کے لوگو! یہ میرا عزیز اپنی قوم میں معزز ہے اِس کی قوم کے لوگ خواہ وہ مسلمان ہیں یا نہیں اس کی حفاظت کرتے ہیں لیکن اب اس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ تمہارے پاس جائے۔اے خزرج کے لوگو! اگر یہ تمہارے پاس گیا تو سارا عرب تمہارا مخالف ہو جائے گا۔ا گر تم اپنی ذمہ داری کو سمجھتے اور اُن خطرات کو پہچانتے ہوئے جو تمہیں اِس کے دین کی حفاظت میں پیش آنے والے ہیں اِس کو لے جانا چاہتے ہو تو خوشی سے لے جائو ورنہ اِس ارادہ سے باز آجائو۔اِس قافلہ کے سردار البراء تھے اُنہوں نے کہا ہم نے آپ کی باتیں سن لیں۔ہم اپنے ارادہ میں پختہ ہیں ہماری جانیں خدا کے نبی کے قدموں پر نثار ہیں۔اب فیصلہ اُس کے اختیار میں ہے۔ہم اُس کا ہر فیصلہ قبول کریں گے۔اِس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی تعلیم سمجھانی شروع کی اور خدا تعالیٰ کی توحید کے قیام کا وعظ کیا اور اُنہیں کہا کہ اگر وہ اسلام کی حفاظت اپنی بیویوں اور اپنے بچوں کی طرح کرنے کا وعدہ کرتے ہیں تو وہ آپ کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہیں۔۲۲۹؎ آپ اپنی بات ختم کرنے نہ پائے تھے کہ مدینہ کے ۷۲ جاں نثار یک زبان ہوکر چلائے ہاں! ہاں!! اُس وقت جوش میں اُنہیںمکہ والوں کی شرارتوں کا خیال نہ رہا اور اُن کی آوازیں فضاء میں گونج گئیں۔عباسؓ نے اُنہیں ہوشیا ر کیا اور کہا خاموش ! خاموش! ایسانہ ہو کہ مکہ کے لوگوں کو اِس واقعہ کا علم ہو جائے۔مگر اب وہ ایمان حاصل کر چکے تھے، اب موت اُن کی نظروں میں حقیر ہو چکی تھی۔عباسؓ کی بات سن کر اُن کا ایک رئیس بولا۔یَارَسُوْلَ اللّٰہ! ہم ڈرتے نہیں، آپ اجازت دیجئے ابھی مکہ والوں سے لڑ کر اُنہوں نے جو ظلم آپ پر کئے ہیں اُ س کا بدلہ لینے کو تیا رہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابھی خدا تعالیٰ نے مجھے اُن کے مقابل پر کھڑا ہونے کا حکم نہیں دیا۔اِس کے بعد مدینہ کے لوگوں نے آپ کی بیعت کی اور یہ مجلس برخاست ہوئی۔۲۳۰؎ مکہ کے لوگوں کو اِس واقعہ کی بھنک پہنچ گئی اور وہ مدینہ کے سرداروں کے پاس شکایت لے