دیباچہ تفسیر القرآن — Page 191
بعد ابوطالب بھی اِس دنیا سے رخصت ہو گئے۔حضرت خدیجہؓ اور ابو طالب کی وفات کے بعدتبلیغ میں رُکاوٹیں اور آنحضرت ﷺ کا سفر طائف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحا بہ اب ابوطالب کے مصالحانہ اثر سے محروم ہوگئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی کی ساتھی حضرت خدیجہؓ بھی آپ سے جد ا ہو گئیں۔اِن دونوں کی وفات سے طبعی طور پر اُن لوگوں کی ہمدردیاں بھی آپ سے اور آپ کے صحابہؓ سے کم ہوگئیں جو ان کے تعلقات کی وجہ سے ظالموں کو ظلم سے روکتے رہتے تھے۔ابو طالب کی وفات کے تازہ صدمہ کی وجہ سے اور ابو طالب کی وصیت کی وجہ سے چند دن آپ کے شدید دشمن اور ابو طالب کے چھوٹے بھائی ابو لہب نے آپ کا ساتھ دیا۔لیکن جب مکہ والوں نے اس کے جذبات کو یہ کہہ کر اُبھارا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تو تمام اُن لوگوں کو جو توحید الٰہی کے قائل نہیں مجرم اور قابل سزا سمجھتا ہے تو اپنے آباء کی غیرت کے جوش میں ابولہب نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور عہد کیا کہ وہ آئندہ پہلے سے بھی زیادہ آپ کی مخالفت کرے گا۔محصوری کی زندگی کی وجہ سے چونکہ تین سال تک لوگ اپنے رشتہ داروں سے جدا رہے تھے اس لئے تعلقات میں ایک سردی پیدا ہو گئی تھی۔مکہ والے مسلمانوں سے قطع کلا می کے عادی ہو چکے تھے اِس لئے تبلیغ کا میدان محدود ہو گیا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ حالت دیکھی تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ وہ مکہ کی بجائے طائف کے لوگوں کو جا کر اسلام کی دعوت دیں۔آپ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ مکہ والوں کی مخالفت نے اِس ارادہ کو اَور بھی مضبوط کر دیا۔اوّل تو مکہ والے بات سنتے ہی نہیں تھے دوسرے اب انہوں نے یہ طریقہ اختیار کر لیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گلیوں میں چلنے ہی نہ دیتے۔جب آپ باہر نکلتے آپ کے سر پر مٹی پھینکی جاتی تاکہ آپ لوگوں سے مل ہی نہ سکیں۔ایک دفعہ اسی حالت میں واپس لوٹے تو آپ کی ایک بیٹی آپ کے سر پر مٹی ہٹاتے ہوئے رونے لگی۔آپ نے فرمایا او میری بچی! رو نہیں کیونکہ یقینا خدا تمہارے باپ کے ساتھ ہے۔۲۱۴؎ آپ تکالیف سے گھبراتے نہ تھے، لیکن مشکل یہ تھی کہ لوگ بات سننے کو تیار نہ تھے۔جہاں