دیباچہ تفسیر القرآن — Page 168
کرے گی، تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے شوق سے اُس مجلس میں شامل ہوگئے۔اس مجلس کے ممبروں نے اِن الفاظ میں قسمیں کھائی تھیں کہ: ’’ وہ مظلوموں کی مدد کریں گے اور اُن کے حق اُن کو لے کر دیں گے جب تک کہ سمندر میں ایک قطرہ پانی کا موجود ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکیں گے تو وہ خود اپنے پاس سے مظلوم کا حق ادا کر دیں گے‘‘۔۱۸۵؎ شاید اس قسم پر عمل کرنے کا موقع آپ کے سوا اور کسی کو نہیں ملا۔جب آپ نے دعویٔ نبوت کیا اور سب سے زیادہ مکہ کے سردار ابوجہل نے آپ کی مخالفت میں حصہ لیا اور لوگوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کوئی بات نہ کرے۔اُن کی کوئی بات نہ مانے۔ہر ممکن طریق سے اُن کو ذلیل کرے۔اُس وقت ایک شخص جس نے ابوجہل سے کچھ قرضہ وصول کرنا تھا مکہ میںآیا اور اُس نے ابوجہل سے اپنے قرضہ کا مطالبہ کیا۔ابوجہل نے اُس کا قرض ادا کر نے سے انکا رکردیا۔اُس نے مکہ کے بعض لوگوں سے اس امر کی شکایت کی اور بعض نوجوانوں نے شرارت سے اُسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پتہ بتایا کہ اُن کے پاس جائو وہ تمہاری اِس بارہ میں مدد کریں گے۔اُن کی غرض یہ تھی کہ یا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس مخالفت کے مدنظر جو مکہ والوں کی طرف سے عموماً اور ابوجہل کی طرف سے خصوصاً ہو رہی تھی اُس کی امداد کرنے سے انکار کردیں گے اور اس طرح عربوں میں ذلیل ہو جائیں گے اور قسم توڑنے والے کہلائیں گے یا پھر آپ اس کی مدد کے لئے ابوجہل کے پاس جائیں گے اور وہ آپ کو ذلیل کر کے اپنے گھر سے نکال دے گا۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ شخص گیا اور اُس نے ابوجہل کی شکایت کی تو آپ بِلا تأمل اُٹھ کر اس کے ساتھ چل دئیے اور ابوجہل کے دروازہ پر جا کر دستک دی۔ابوجہل گھر سے باہر نکلا اور دیکھا کہ اُس کا قرض خواہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُس کے دروازہ پر کھڑا ہے۔آپ نے فوراً اُسے توجہ دلائی کہ اِس شخص کا تم نے فلاں فلاں حق دینا ہے اِس کو ادا کرو اور ابوجہل نے بِلا چون و چرا اُس کا حق اُسے ادا کر دیا۔جب شہر کے رئوساء نے ابوجہل کو ملامت کی کہ تم ہم سے تو یہ کہا کرتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ذلیل کرو اور اس سے کوئی تعلق نہ رکھو لیکن تم نے خود اُس کی بات