دعوت الامیر — Page 364
(myr) ۶۴ دعوة الامير دریغا گردهم صد جاں دریں راہ نباشد نیز شایان محمد چہ ہیبت با بدادند این جواں را کہ ناید کس بمیدان محمد الا اے دشمنِ نادان و بے راہ بترس از تیغ بیران محمد ره مولی که گم کردند مردم بجو در آل و اعوان محمد الا اے منکر از شان محمد ہم از نور نمایان محمد کرامت گرچه بے نام ونشان است بیا بنگر ز غلمان محمد ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۴۹) اب آپ غور کریں کہ جس شخص نے بچپن سے لیکر وفات تک اپنی عمر کی ہر ساعت اور ہر لمحہ کو اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کے جلال کے اظہار اور اُس کے کلام کی اشاعت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور آپ کے دین کی اطاعت اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کے استحکام میں خرچ کر دیا ہو اور اپنوں اور بیگانوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی عزت کی حفاظت کے لیے اپنا دشمن بنالیا ہو اور اپنا ہر ذرہ اسلام کی خدمت میں لگا دیا ہو، کیا ایسا شخص گمراہ اور ضات اور مفسد اور دجال ہوسکتا ہے۔اگر یہ اعمال مفسدانہ ہیں اگر اس قسم کا عشق کفر کی علامت ہے اگر ایسی محبت رسول گمراہی کا نشان ہے تو بخدا یہ گمراہی خدا مجھے ساری کرے نصیب یہ گفر مجھ کو بخش دے سارے جہان کا اللہ تعالیٰ گواہ ہے اور اس کا کلام گواہ ہے اور اُس کا رسول گواہ ہے اور عقلِ سلیم گواہ ہے کہ ایسا شخص ہرگز ہرگز گمراہ اور جھوٹا نہیں ہوسکتا۔اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا اس قدر عشق اور اس کی اس قدر اطاعت اور فرمانبرداری اور اُن کے احکام کی