دعوت الامیر — Page 331
(Fri) دعوة الامي مضبوطی سے قائم حکومتیں ایسے جوشوں سے یکدم نہیں مٹ جاتیں، مگر اللہ تعالیٰ اس موقع پر کام کر رہا تھا۔زار روس نے لوگوں میں جوش کی حالت معلوم کر کے گورنر کو سختی کرنے کا حکم دے دیا مگر اس دفعہ بختی نے خلاف معمول اثر کیا ، لوگوں کا جوش اور بھی بڑھ گیا۔بادشاہ نے اس گورنر کو بدل کر ایک اور گورنر مقرر کر دیا اور خود دار الخلافہ کی طرف چلاتا کہ اُس کے جانے سے لوگوں کا جوش ٹھنڈا پڑ جائے ، مگر راستے میں اُسے اطلاع ملی کہ لوگوں کا جوش تیزی پر ہے اور یہ کہ اس کو اس وقت دار الخلافہ کی طرف نہیں آنا چاہیئے مگر بادشاہ نے اس نصیحت کی پرواہ نہ کی اور خیال کیا کہ اس کی موجودگی میں کوئی شور نہیں ہوسکتا اور آگے بڑھتا گیا، کچھ ہی دُور آگے ٹرین گئی تھی کہ معلوم ہوا بغاوت ہوگئی ہے اور باغیوں نے دفاتر وزارت پر قبضہ کر لیا ہے اور ملکی حکومت قائم ہوگئی ہے یہ سب کچھ ایک ہی دن میں ہو گیا یعنی ۱۲؍ مارچ 191ء کی صبح سے شام تک دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ اختیار رکھنے والا بادشاہ جو اپنے آپ کوز ار کہتا تھا یعنی کسی کی حکومت نہ مانے والا اور سب پر حکومت کرنے والا۔وہ حکومت سے بے دخل ہو کر اپنی رعایا کے ماتحت ہوگیا اور ۱۵ / مارچ کو مجبوراً اُسے اپنے ہاتھ سے یہ اعلان لکھنا پڑا کہ وہ اور اُسکی اولا د تخت روس سے دست بردار ہوتے ہیں اور حضرت اقدس کی پیشگوئی کے مطابق زاروں کے خاندان کی حکومت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا، مگر ابھی اللہ تعالیٰ کے کلام کے بعض حصوں کا پورا ہونا باقی تھا۔نکولس ( زار روس) (۱۸۶۸Nicholas II of Russiaء۔۱۹۱۸ء) روسی شہنشاہوں میں سے آخری شہنشاہ تھا ۲۶ رمئی ۱۸۹۵ ء ماسکو میں اس کی تاجپوشی ہوئی۔مطلق العنان اور جابر تھا۔انقلاب روس نے مارچ ۱۹۱۷ء میں اسے تخت سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا۔اسے پہلے محل زار سکویئے سیلو اور پھر ٹویولسک میں قید رکھا گیا۔۱۶ جولائی ۱۹۱۸ ء کو بالشویکوں نے