دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 397

دعوت الامیر — Page 301

(+1) دعوة الامير حال اس کا تھا۔جب بحث مباحثے نے طول پکڑا یہ شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بدگوئی میں بڑھتا ہی چلا گیا اور حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت بھی ٹھٹھے کرتا اور کہتا رہا کہ مجھے کوئی نشان کیوں نہیں دکھاتے تو آخر حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس کے متعلق اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور آپ کو بتایا گیا کہ اس کے لیے یہ نشان ہے کہ یہ جلد ہلاک کیا جائے گا۔اس پیشگوئی کے شائع کرنے سے پہلے آپ نے لیکھرام سے دریافت کیا کہ اگر اس پیشگوئی کے شائع کرنے سے اس کو رنج پہنچے تو اُس کو ظاہر نہ کیا جائے مگر اُس نے اس کے جواب میں لکھا کہ مجھے آپ کی پیشگوئیوں سے کچھ خوف نہیں ہے۔آپ بے شک پیشگوئی شائع کریں مگر چونکہ پیشگوئی میں وقت کی تعیین نہ تھی اور لیکھرام وقت کی تعیین کا مطالبہ کرتا تھا آپ نے اس پیشگوئی کے شائع کرنے میں اُس وقت تک توقف کیا جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وقت معلوم ہو جائے۔آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر پاکر کہ ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء سے لیکر چھ برس کے اندر لیکھر ام پر ایک درد ناک عذاب آئے گا جس کا نتیجہ موت ہوگا۔یہ پیشگوئی شائع کر دی۔ساتھ ہی عربی زبان میں یہ الہام بھی شائع کیا جولیکھرام کی نسبت تھا یعنی عِجْلْ جَسَدَلَّهُ خَوَارْ لَهُ نَصَبَ وَعَذَاب ( تذکرہ صفحہ ۲۲۹ ایڈیشن چہارم) یعنی یہ شخص گوساله سامری کی طرح ایک بچھڑا ہے جو یو نہی شور مچاتا ہے ورنہ اس میں روحانی زندگی کا کچھ حصہ نہیں۔اس پر ایک بلا نازل ہوگی اور عذاب آئے گا۔اس کے بعد آپ نے لکھا کہ اب میں تمام فرقہ ہائے مذاہب پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصے میں آج کی تاریخ سے یعنی ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا کی