دعوت الی اللہ

by Other Authors

Page 17 of 27

دعوت الی اللہ — Page 17

19 حیثیت رکھتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ اس پر شاہد ناطق ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں مخلوق خدا کی ہدایت کے لئے جو جذبہ ہمدردی آپ کے دل میں موجزن تھا اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے :- لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِين۔(شعراء : ۴) ترجمہ :۔شاید تو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالے گا کہ وہ کیوں مومن نہیں ہوتے۔غزوہ اُحد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لہو لہان کیا جاتا ہے اور آپ شدید ترین اذیت کے لمحات میں دست بدعا ہو کہ یوں گویا تھے :- اللهُمَّ اهْدِ قَوْ فِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ۔اسلم كتاب الجهاد) یعنی۔اسے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ یہ حقیقت سے نا آشنا ہیں۔طائف کے سفر میں آپ سے جو سلوک روا رکھا گیا اس سے کون واقف نہیں مگر اُن کے حق میں بھی بددُعا نہیں کی۔پس یہی وہ جذبہ ہمدردی تھا جس نے عرب کے بیاباں میں ایک روحانی انقلاب برپا کر دیا۔حدیث میں آتا ہے ایک بڑھیا روزانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی چھت پر سے بغض و عناد کے باعث گند پھینکا کرتی تھی۔ایک روز جب ایسا نہ ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وجہ دریافت فرمائی۔آپ کو بتایا گیا کہ