دورۂ قادیان 1991ء — Page 40
40 مسجد مندر اور گر جا بھی موجود تھے۔ایک بوڑھا شخص بڑی مسجد کے پہلو میں باہر کی طرف اس کی چھت سے ایک گہرے کنویں میں چھلانگ لگا کر لوگوں کیلئے دلچسپی کا موقع فراہم کرتا تھا۔حضور انور کو دیکھ کر اس نے خواہش کی کہ حضور انور اس کی چھلانگ کو ملاحظہ فرمائیں۔اس کی اس خواہش کو حضور انور نے قبول فرمایا۔اُس نے جست لگائی اور پھر حضور انور سے انعام بھی حاصل کیا۔بڑی مسجد کے صحن میں اُس زمانہ کے بزرگ حضرت سلیم الدین کا مزار ہے جس پر حضور انور نے دعا کی۔دو پہر کے کھانے کا انتظام مکرم مولوی برہان احمد ظفر صاحب اور اُن کے معاونین نے کیا تھا جواس یادگار سفر میں حضرت خلیفہ اسیح کے قافلہ کے ہمراہ تھے۔شہنشاہ اکبر کے محل سے ملحق ایک لان میں دو پہر کے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔کھانے کے بعد وہیں نماز ظہر و عصر ادا کی گئیں۔بعد ازاں قافلہ آگرہ کے لئے روانہ ہوا قریبا چار بجے سہ پہر قافلہ آگرہ پہنچا جہاں حضور انور نے تاج محل دیکھا اور اس میں شاہ جہاں کی قبر پر دعا کی یہاں سے شام ساڑھے چھ بجے روانہ ہو کر دس بجے بیت الہادی میں پہنچ کر حضور انور نے نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائیں۔بعد ازاں آپ اپنی رہائش گاہ میں تشریف لے گئے۔۱۸؍ دسمبر ۱۹۹۱ء بروز بدھ۔دہلی تغلق آباد، قطب مینار کی سیر اور حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے مزار پر دُعا ۱۸؍ دسمبر کا دن حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کا یوم ولادت ہے۔اس روز آپ کی عمر تریسٹھ برس ہوگئی۔نماز فجر کی ادائیگی اور ناشتہ سے فراغت کے بعد حضور انور مع اراکین قافلہ تغلق آباد میں غیاث الدین تغلق اور محمد بن تغلق کے قدیمی قلعہ کو دیکھنے کیلئے تشریف لے گئے۔( کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا قلعہ ہے جو ساڑھے چھ کلومیٹر سے زائد رقبہ پر پھیلا ہوا ہے۔) اس وسیع وعریض قلعہ کو غیاث الدین تغلق نے ۱۳۲۴ء میں چار سال کے مختصر سے عرصہ میں تیار کرایا تھا۔حضرت مصلح موعود نے بھی اس قلعہ کی بھی سیر کی تھی۔اُس کا ذکر آپ کی معرکۃ الآراء