دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 208 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 208

208 گھٹی محسوس ہوتی ہے۔ایسے ماحول میں ان بچیوں کو اور لڑکوں اور بڑوں کو زندگی بسر کرنے پر مجبور رکھنا یہ ظلم ہے اس لئے عالمی جماعت کا یہ فرض ہے کہ ان کی اس قسم کی علمی اور صحت جسمانی کی ضرورتیں ضرور پوری کریں اور اس شان سے پوری کریں کہ علاقے میں اسکی کوئی مثال نہ ہو۔پس اس بارہ میں میں ہدایات دے آیا ہوں کہ اب تفصیلی منصوبے بنانا تمہارا کام ہے۔بناؤ اور جو بھی بناؤ گے انشاء اللہ عالمی جماعت فراخدلی کے ساتھ ان پر عمل درآمد کرنے میں تمہاری مدد کرے گی۔اور میری خواہش ہے کہ آئندہ جلسہ سے پہلے پہلے عورتوں اور مردوں کے لئے یہ سپورٹس کمپلیکس مکمل ہو چکے ہوں یا مکمل نہ سہی تو نظر آنے شروع ہوں اور ان کا فیض دکھائی دینے لگے۔ہمارے احمدی بچوں کے چہروں پر صحت دکھائی دے۔اس لئے یہ بھی وہ ایک ضروری منصوبہ ہے جو شروع کیا جا چکا ہے لیکن یہ قادیان تک محدود نہیں رکھنا۔علمی اور صحت کے یہ دونوں منصوبے ہندوستان کی باقی جماعتوں میں ممتد ہوں گے کیونکہ ان کی بھی محصور کی سی ایک کیفیت ہے۔بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں مسلمان بعض راہنماؤں کی غلطیوں کی وجہ سے اپنے بنیادی حقوق سے محروم رکھے جارہے ہیں۔ان میں جماعت احمد یہ بھی ان تکلیفوں میں حصہ دار بنی ہوئی ہے اگر چہ غلط پالیسیوں کے ساتھ جماعت احمدیہ کا کوئی تعلق نہیں لیکن دوسری مصیبت یہ ہے کہ پاکستان کی طرح کے ملاں وہاں بھی جماعت کے خلاف نفرت کی تحریکات چلاتے اور بھڑکاتے ہیں اور کوئی ہوش نہیں کر رہے کہ باہر کی دنیا میں کیا گندا اثر پیدا کر رہے ہیں۔اس لئے احمدیوں کے لئے دو ہری مشکلات ہیں اور وہ ان مخالفتوں میں محصور ہو چکے ہیں۔چنانچہ بعض جماعتوں کے ساتھ جب تفصیلی انٹرویو ہوئے تو پتہ لگا کہ واقعہ ان کی محصور کی سی کیفیت ہے۔وہ عام روز مرہ کے اپنی زندگی کے حقوق سے کلیۂ محروم ہیں۔مسلمان ان سے کنی کتراتے ہیں۔ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات نہیں رکھتے کیونکہ ان کو نفرتوں کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ہندو و یسے ہی دور ہٹتے چلے جا رہے اور دن بدن ہند و قوم پرستی یا تشدد پرستی کی جو تحریکات ہیں وہ زیادہ قوی ہوتی جارہی ہیں۔اور یہ دراصل پاکستان اور بعض دوسرے مسلمان ممالک کی جہالت کا طبعی نتیجہ ہے۔سور نگ میں ان کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے اسے قومیائی حدود میں جکڑو نہیں اور غیروں کے مقابل پر ایسے ذرائع اختیار نہ کرو کہ وہ سمجھیں کہ تم اپنے مذہب کو زبردستی ان پر ٹھونستے اور ان کو ان کے حقوق سے محروم کرتے