دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 183 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 183

183 آپ لوگ گئے تھے اور ہم یہاں آکر آباد ہوئے تھے تو لوگ ہمیں کہتے تھے کہ مرزا صاحب کی پیشگوئیاں ہیں کہ ہم واپس آئیں گے تو ہم آپس میں مذاق کیا کرتے تھے۔باتیں تو ہم سن لیتے تھے لیکن باہر جا کر آپس میں مذاق کیا کرتے تھے کہ دیکھو جی! کیسی بچگانہ باتیں ہیں۔ایک دفعہ گیا ہوا کب واپس آتا ہے اور کیسے آسکتا ہے۔ہم تو اب یہاں آباد ہو گئے۔کہتے ہیں لیکن اب جلسہ کے بعد ہم یہ باتیں کر رہے ہیں کہ مرزا صاحب کی ساری باتیں سچی تھیں اور ان لوگوں نے آنا ہی آنا ہے اور قادیان کو چھوڑنے والے نہیں اور بھولنے والے نہیں۔انہوں نے لازماً آنا ہے اور وہ پیشگوئیاں ضرور پوری ہوں گی۔تو دیکھیں خدا تعالیٰ نے آنا فانا کیسی فضا بدلی ہے اور یہ جو باقی رہنے والی برکتیں ہیں ان میں سے یہ برکتیں ہیں جن کو سنبھالنا اور ان کی مزید افزائش کرنا جماعت احمدیہ کے نیک اعمال سے تعلق رکھتا ہے۔محض نیک خواہشات سے تعلق نہیں رکھتا۔پس میں جو نصیحت کر رہا ہوں اس کو سنجیدگی سے قبول کریں۔جس کو قادیان میں کسی قسم کی صنعت قائم کرنے یا قادیان سے تجارت کرنے کی توفیق ہو اس کو اس میں ضرور کوشش کرنی چاہئے۔قادیان کے درویشوں کو میں نے یہ نصیحت کی ہے کہ کشمیر وغیرہ سے اور دوسرے اردگرد کے علاقوں سے جو چیزیں باہرایکسپورٹ ہوتی ہیں تم لوگ مل کر چھوٹی چھوٹی کمپنیاں بناؤ۔ان میں حصہ لو۔باہر کے احمدی اس معاملہ میں تمہارے ساتھ تعاون کریں گے۔ہمیں لکھو کیا کچھ کر سکتے ہو۔باہر سے ہم ایسے احمدیوں سے رابطہ کریں گے جو دوسری طرف سے ان کے مددگار ثابت ہوں۔تو اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے تجارتیں چمکیں گی اور وہاں لوگوں کے لئے رزق کے اچھے انتظام پیدا ہوں گے بہت سے احمدیوں کو ایمپلائمنٹ (Employment) ملے گی اور یہ نہیں ہوگا کہ بچے پلے اور پھر رزق کی تلاش میں ساری دنیا میں باہر نکل گئے بلکہ اردگرد سے ، دور دور کی جماعتوں سے احمدی بچے بڑے شوق کے ساتھ روحانی کشش کے علاوہ اپنے روزگار کی تلاش میں بھی قادیان آنا شروع ہو جائیں گے اور اس طرح قادیان کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔قادیان کی آبادی کا ایک حصہ ایسا ہے جس نے بہر حال قادیان کو سر دست چھوڑ نا ہی چھوڑنا ہے اور وہ خواتین ہیں، بچیاں ہیں۔چھوٹی آبادی میں رشتوں کے بہت مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔قادیان کے مرد تو تلاش روزگار میں باہر نکل جاتے ہیں۔قادیان کے نکلے ہوئے نوجوان ساری دنیا