چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 26
۲۶ مجد د اول حضرت عمر بن عبد العزیز نے یہ بیان فرمائی ہے اور ابن ہشائم جیسے قدیم ترین اورمستند مورخ اسلام نے اپنی تاریخ میں اس کو درج فرمایا ہے۔(ملاحظہ ہو السيرة النبوية لابن هِشَامُ جلد اول ص ۲۲ مطبوعہ مصرت اله حالات حضرت سلمان فارسی ام لَيَكُونَنَّ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ فِي أُمَّتِي حَكَمًا عَدْلام اما ما قِسْطَا" (البداية والنهاية "جلداص" از ابو الفداء الحافظ ابن کثیر الدمشقی المتوفی ۷۷۴ طبع اولی ۶۱۹۶۸ ناشر: مكتبة النصر الحديثة الرياض) ترجمہ : میری امت میں عیسی ابن مریم حکم عدل اور انصات کرنے والے امام کی حیثیت میں پیدا ہوں گے۔به خَيْرُ هذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلُهَا وَأَخِرُهَا أَولُهَا فِيهِمْ رَسُولُ اللهِ وَاخِرُهَا فِيْهِمْ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ وَ بين ذلِكَ نَهْجُ اَعُوجُ لَيْسَ مِنْكَ وَلَسْتَ مِنْهُمْ“ الجامع الصغير السيوطی جلد بحث ناشر مکتبہ اسلامیہ سمندری) ترجمہ : اس اُمت کا پہلا اور آخری حصہ بہترین ہے۔اس کے پہلے حصہ میں رسول اللہ کا وجود ہے اور آخری حصہ ہیں عیسی ابن مریم کا وجود ہو گا اور ان کے درمیان ٹیڑھے راستہ