چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 146
۱۴۶ سے مسیح موعود کہلاتا ہے۔وہ مجد د صدی بھی ہے اور مجددالف آخر بھی " " لیکچر سیالکوٹ کٹ " روحانی خزائن جلد ۲۰ متنا) حضرت کا یہ دعوی بھی صداقت اسلام کا ایک چمکتا ہوا نشان تھا کیونکہ اس کے ذریعہ سے دسویں صدی کے مجدد حضرت علامہ جلال الدین سیوطی ولادت کی المتوفی ) کی اس پیشگوئی کا عملی طور ہوا کہ محمدی موعود کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے جس کے بعد کوئی مجد د نہیں آئے گا۔۶۱۴۴۵ چنانچہ فرماتے ہیں علامہ سیوطی۔وآخر المئين فيها ياتي عیسی نبی الله ذوالآيات يجدد الدين لهذه الأمه وفي الصلوة بعضنا قدامه مقرراً لشرعنا ويحكم بحكمنا اوفى السماء يعلم وبعدة لم يبق من مجدد ويرفع القرآن مثل ما بدى (حجج الكرامه فى أثار القيامة من نواب صدیق حسن خانصاحب بہادر - در مطبع شاهجهانی واقع بلده بهوپال شاه) آخری صدی میں علی نبی اللہ نشانات کا حامل آئے گا۔اس اُمت کے لئے دین کی تجدید کرے گا اور نماز میں ہم میں سے کوئی اُس کے آگے بطور امام کھڑا ہو گا۔