چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت

by Other Authors

Page 12 of 203

چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 12

۱۲ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ ولم کی خدمت اقدس میں عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے یہ بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے سب اشیاء سے پہلے کونسی پچیز پیدا کی ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے جابر ! اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا پھر وہ نور قدرت الہیہ سے جہاں اللہ تعالیٰ کو منظور ہو اسیر وحانی کرتا رہا۔اس وقت نہ کوح تھی نہ قلم، نه بهشت نه دوزخ نہ فرشتے نہ آسمان نہ زمین نہ سورج اور نہ چاند۔(مسند عبد الرزاق ) دوم طلوع آفتاب محمدی کی صدی، جس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جلائی اور جمالی انوار و برکات اور تاثیرات براہ راست ملکہ معظم اور مدینہ منورہ کی مقدس سرزمین سے جلوہ گر ہوئے۔رسوم وہ صدی جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی قوت قدسیہ کے طفیل قرآنی اصطلاح کے مطابق بذر یعنی چودھویں کے چاند کا ظہور مقدر تھا۔اور قرآن مجید کا یہ حیرت انگیز معجزہ ہے کہ مؤخر الذکر دونوں صدیوں کا ذکر خدائے عز و جل نے اس ایک آیت میں ہی کمال جامعیت کے ساتھ کیا ہے جو میں نے ابھی پڑھی ہے اور جس کا خکلی ترجمہ یہ ہے کہ :۔