چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 132
1696 ہوتا ، اُس کے وقت میں بچھاپہ خانہ بھی ہوتا اور اس کے پاس ایک کتاب بھی ہوتی جس میں تین سو تیرہ نام لکھے ہوئے ہوتے لیکن مہدی برحق نے بجنور می شهداء میں انجام آتھم شائع فرمائی جس میں ہندوتوان، ترکی طرابلس، حجاز، عراق، افریقہ اور انگلستان کے ۱۲ سر صحابہ کے نام دیئے۔ر اس طرح حضرت سید الرسل ہادی عرب و عجم کی پیشگوئی چودھویں صدی کے چودھویں سال میں حرف بحرف پوری ہو گئی۔سترھواں نشان ( ) ٠١٣١٧ 4 جمادی الآخر ۱۳۱۷ھ مطابق نومبر ۱۸۹۹ء میں حضرت مهدی مولود نے اشتہار دیا کہ آپ کی جماعت کا نام احمد کی مذہب کے مسلمان “ اور مسلمان فرقہ احمدیہ " رکھا جاتا ہے۔راس اعلان سے حضرت علی کرم اللہ وجہ ، حضرت عمر و بن فارض مصری حضرت مجدد الف ثانی ، حضرت امام علی القاری اور سندھ کے ممتاز بزرگ حضرت عبد الرحیم گرو ہری کی یہ سب پیش گوئیاں الہامی ثابت ہوئیں که مهدی موعود احمدیت کی روحانی سلطنت کے علمبردار ہوں گے۔اُن کے سلسلہ کا نام احمدی ہوگا اور وہی آسمان کے دفتر میں حقیقی مسلمان اور نجات یافتہ ہوگا۔وہ پیشگوئیاں یہ ہیں :۔