حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 52
52 میں نے براہین احمدیہ میں غلطی سے توفی کے معنی ایک جگہ پورا دینے کے کئے ہیں جس کو بعض مولوی صاحبان بطور اعتراض کے پیش کرتے ہیں مگر یہ امر جائے اعتراض نہیں۔میں بشر ہوں اور بشریت کے عوارض مثلاً جیسا کہ سہوونسیان اور غلطی یہ تمام انسانوں کی طرح مجھ میں بھی ہیں۔گو میں جانتا ہوں کہ کسی غلطی پر خدا تعالیٰ مجھے قائم نہیں رکھتا۔مگر یہ دعویٰ کہ میں اپنے اجتہاد میں غلطی نہیں کر سکتا۔خدا کا الہام غلطی سے پاک ہوتا ہے مگر انسان کا کلام غلطی کا احتمال رکھتا ہے کیونکہ سہو ونسیان لازمہ بشریت ہے۔“ ( ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۷۱ ۲۷۲) یہ بات آنحضرت ﷺ نے بھی بیان فرمائی ہے۔مَاحَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ فَهُوَ حَقٌّ وَمَا قُلْتُ فِيْهِ مِنْ قِبَلِ نَفْسِى فَإِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ أُخْطِئُ وَاصِيبُ یعنی جو بات میں اللہ تعالیٰ کی وحی سے کہوں تو وہ درست ہوتی ہے۔( یعنی اس میں غلطی کا احتمال نہیں) لیکن جو بات میں اس وحی الہی کے ترجمہ اور تشریح کے طور پر اپنی طرف سے کہوں تو یاد رکھو کہ میں بھی انسان ہوں۔میں اپنے خیال میں غلطی کر سکتا ہوں۔“ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنُسَى كَمَا تَنْسَوْنَ (بخاری کتاب الصلوة باب التوحيد نحو القبلة حيث كان) یعنی میں بھی انسان ہوں۔تمہاری طرح مجھ سے بھی نسیان ہوجاتا ہے۔پس براہین احمد یہ میں توفی کا ترجمہ چیلنج کے خلاف پیش نہیں کیا جاسکتا۔