حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 289
289 تمام پادیوں کو نشان نمائی کے مقابلہ کا چیلنج۔اور آسمانی نشانوں کی شہادت کا یہ حال ہے کہ اگر تمام پادری مسی مسیح کرتے مر بھی جائیں تاہم ان کو آسمان سے کوئی نشان مل نہیں سکتا۔کیونکہ مسیح خدا ہو تو ان کونشان دے۔وہ تو بیچارہ اور عاجز اور ان کی فریاد سے بے خبر ہے۔اور اگر خبر بھی ہو تو کیا ہوسکتا ہے۔“ (کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۵۴) ۲۔دیکھو ہم حضرات پادری صاحبوں کو نہ تلوار سے بلکہ ملائم الفاظ سے بار باراس طرف بلاتے ہیں کہ آؤ ہم سے مقابلہ کرو کہ دونوں شخص یعنے حضرت مسیح اور حضرت سید نا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے روحانی برکات اور افاضات کے رو سے زندہ کون ہے۔اور جس طرح خدا کے نبی پاک نے قرآن شریف میں کہا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے تو میں سب سے پہلے اس کی پرستش کرونگا۔ایسی ہی میں کہتا ہوں کہ اے یورپ اور امریکہ کے پادریو! کیوں خواہ نخواہ شور ڈال رکھا ہے۔تم جانتے ہو کہ میں ایک انسان ہوں جو کروڑہا انسانوں میں مشہور ہوں۔آؤ میرے ساتھ مقابلہ کرو۔مجھ میں اور تم میں ایک برس کی مہلت ہو۔اگر اس مدت میں خدا کے نشان اور خدا کی قدرت نما پیشگوئیاں تمہارے ہاتھ سے ظاہر ہوئیں اور میں تم سے کمتر رہا تو میں مان لونگا کہ مسیح ابن مریم خدا ہے لیکن اگر اُس سچے خدا نے جس کو میں جانتا ہوں اور آپ لوگ نہیں جانتے مجھے غالب کیا اور آپ لوگوں کا مذہب آسمانی نشانوں سے محروم ثابت ہوا تو تم پر لازم ہوگا کہ اس دین کو قبول کرو۔“ تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۶۰) ۳۔کیا بنی اسرائیل کے بقیہ یہود یا حضرت مسیح علیہ السلام کو خداوند خداوند پکار نے