حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 270 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 270

270 نشان کے مشاہدہ کے لئے نہیں آنا چاہتے ہیں صرف مباحثہ کیلئے آنا چاہتے ہیں تو اس امر سے میری خصوصیت نہیں خدا تعالیٰ کے فضل سے امت محمدیہ میں علماء اور فضلاء اور بہت ہیں جو ایسے مباحثہ کرنے کو طیار ہیں۔میں جس امر سے مامور ہو چکا ہوں اس سے زیادہ نہیں کر سکتا اور اگر مباحثہ بھی مجھ سے منظور ہے تو آپ میری کتاب کا جواب دیں۔یہ مباحثہ کی صورت عمدہ ہے اور اس میں معاوضہ بھی زیادہ ہے بجائے چوبیس سو کے دس ہزار روپیہ۔۳۰ مئی ۱۸۸۵ء اخبار الحکم جلد ۵ مورخہ ۷ استمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۱۳) حضرت اقدس نے یہ خط اور اس کے ساتھ مبلغ چوبیس صد روپے بذریعہ ایک گروہ کثیر مسلمانوں کے اندر من مراد آبادی کی خدمت میں روانہ کیا۔مگر منشی صاحب اس جماعت کے پہنچنے سے پہلے پہلے لاہور سے فرید کوٹ روانہ ہو گئے۔بعد میں منشی صاحب کے پتہ پر بذریعہ رجسٹری انہیں روانہ کیا گیا اور نیز بذریعہ اشتہار مشتہر بھی کر دیا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہار مورخہ ۳۰ مئی ۱۸۸۵ء مطبوعہ صدیقی پریس لاہور کے جواب میں منشی اندر من مراد آبادی نے ایک اشتہار مطبوع مفید عام پریس لاہور شائع کیا جس کے ذریعہ اصل واقعات کو اپنی شکست کی ذلت سے بچنے کے لئے بدل دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ الزام لگایا کہ آپ نے مجھ سے بحث کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اب عہد شکنی کرتے ہوئے بحث سے کنارہ کشی اختیار کر گئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے منشی اندر من مراد آبادی کے اس الزام کا مفصل جواب لکھ کر بذریعہ رجسٹری منشی صاحب کے نام ارسال کر دیا۔چنانچہ اس خط کے آخر پر آپ نے لکھا کہ :۔اب قصہ کوتاہ یہ کہ یہ عاجز اس قسم کی بحثوں سے سخت بیزار ہے اور جس طور کی بحث یہ عاجز منظور رکھتا ہے وہ وہی ہے جو اس سے اوپر ذکر کی گئی۔اگر آپ طالب صادق