حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 179 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 179

179 عربی دانی میں مقابلہ کے چیلنج کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہایت فصیح و بلیغ عربی زبان میں ہیں سے زیادہ کتابیں لکھیں اور مخالف علماء کو ہزار ہا روپیہ کے انعامات مقرر کر کے مقابلہ کیلئے بلایا۔مگر کسی کو بھی بالمقابل کتاب یا رسالہ لکھنے کی جرات نہ ہو سکی بلکہ آپ کے مقابلہ میں عربی زبان میں کتب و رسائل لکھنے کی بجائے بالکل ویسے ہی اعتراضات کرنے شروع کر دیئے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین نے قرآنی چیلنج کے جواب میں کئے تھے۔چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عربی کلام کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔حقیقت شناس اس عبارت سے اس کا جاہل ہونا اور کوچہ عربیت سے اس کا نابلد ہونا اور دعویٰ الہام میں کا ذب ہونا نکالتے ہیں اور وہ خوب سمجھتے ہیں کہ یہ عبارت عربی کی عربی نہیں اور اس کی فقرہ بندی محض بے معنی تک بندی ہے۔اس میں بہت سے محاورات والفاظ کا دیانی نے از خود گھڑ لئے ہیں۔عرب سے وہ منقول نہیں اور جو اس کے عربی الفاظ وفقرات ہیں ان میں اکثر صرف و نحو وادب کے اصول وقواعد کی رو سے اس قدر غلطیاں ہیں کہ ان اغلاط کی نظر سے ان کو سخ شدہ عربی کہنا بے جانہیں اور ان کے راقم کو عربی سے جاہل اور کلام الہی سے مشرف و مخاطب ہونے سے عاطل کہنا زیبا ہے۔" (اشاعۃ السنہ جلد ۵ انمبر ۱۳ صفحه ۳۱۶۔نیز جلد ۱۵ نمبر ۸ صفحه ۱۹۱) پھر مخالفین نے آپ پر یہ بھی الزام لگایا کہ جو کتا ہیں عربی زبان میں آپ تصنیف فرماتے ہیں وہ خود نہیں لکھتے بلکہ دوسروں سے لکھواتے ہیں اور ایک شامی عرب اپنے پاس رکھتا ہے جو آپ کو لکھ کر دیتا ہے اور آپ اپنے نام پر شائع کر دیتے ہیں۔چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب لکھتے ہیں۔