حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 91
91 تفسیر نویسی کے مقابلہ کا چیلنج کے اکتوبر ۱۸۹۱ء میں مولوی محمد بشیر بھو پالوی سے وفات وحیات مسیح کے موضوع پر دہلی میں مباحثہ کے بعد حضرت اقدس نے جب دیکھا کہ چوٹی کے علماء کو اور پھر دہلی جیسے مرکزی شہر میں جا کر اتمام حجت کر چکا ہوں مگر علماء دلائل کے میدان میں آنے سے گریز کرتے ہیں اور اگر کوئی مقابلہ پر آئے بھی تو وہ اپنی ظاہری عزت اور وجاہت کو خیر باد کہنے کیلئے تیار نظر نہیں آتا تو ایک ایسی راہ اختیار کی جو مذہب کی جان ہے اور جس کے بغیر کوئی شخص آسمانی روح اپنے اندر رکھنے کا دعویدار ہی نہیں ہو سکتا۔آپ نے علماء کو دعوت دی کہ اگر آپ لوگ خدا تعالیٰ کے نزدیک فی الحقیقت مومن ہیں اور آسمان کے ساتھ آپ لوگوں کو کوئی روحانی مناسبت ہے تو آؤ! آسمانی تائیدات میں میرا مقابلہ کر کے دیکھ لو۔اگر آپ لوگ کامل مومن اور متقی ہیں تو اللہ تعالیٰ یقیناً آپ لوگوں کی تائید کرے گا۔لیکن اگر اس نے آپ لوگوں کو مخذول اور مجبور کر دیا اور تائید الہی میرے شامل حال ہوئی تو پھر تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ حق کس کے ساتھ ہے اور باطل پر کون ہے؟ چنانچہ آپ نے اس ضمن میں کامل مومن کی چار علامتیں بیان فرمائیں۔اول۔یہ کہ کامل مومن کو خدا تعالیٰ سے اکثر بشارتیں ملتی ہیں یعنی پیش از وقوع خوشخبریاں جو اس کی مرادات یا اس کے دوستوں کے مطلوبات ہیں۔اس کو بتلائی جاتی ہیں۔دوم۔یہ کہ مومن کامل پر ایسے امور غیبیہ کھلتے ہیں جو نہ صرف اس کی ذات یا اس کے واسطہ داروں سے متعلق ہوں بلکہ جو کچھ دنیا میں قضا و قدر نازل ہونے والی یا بعض دنیا کے افراد مشہورہ پر کچھ تغیرات آنے والے ہیں ان سے برگزیدہ مومن کو اکثر اوقات خبر دی جاتی ہے۔