چالیس جواہر پارے — Page 32
32 کام خدائے اسلام کے ترازو میں بالکل بے وزن اور بے سود ہیں اور صحیح عمل وہی ہے جو دل کے سچے ارادہ اور نیت کے خلوص کے ساتھ کیا جائے اور یہی وہ عمل ہے جو خدا کی طرف سے حقیقی جزا پانے کا مستحق ہوتا ہے۔حق یہ ہے کہ جب تک انسان کا دل اور اس کی زبان اور اس کے جوارح یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ کسی عمل کے بجالانے میں برابر کے شریک نہ ہوں وہ عمل کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔دل میں سچی نیت ہو ، زبان سے اس نیت کی تصدیق ہو اور ہاتھ پاؤں اس نیت کے عملی گواہ ہوں تو تب جا کر ایک عمل قبولیت کا درجہ حاصل کرتا ہے۔اگر کسی شخص کے دل میں سچی نیت نہیں تو وہ منافق ہے۔اگر اس کی زبان پر اس کی نیت کی تصدیق نہیں تو وہ بزدل ہے اور اگر اس کے ہاتھ پاؤں اس کی بیان کردہ نیت کے مطابق نہیں تو وہ بد عمل ہے۔پس سچا عمل وہی ہے جس کے ساتھ سچی نیت شامل ہو۔پاک نیت سے انسان اپنے بظاہر دنیوی اعمال کو بھی اعلیٰ درجہ کے دینی اعمال بنا سکتا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی یکم دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک خاوند اس نیت سے اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالتا ہے کہ میرے خدا کا یہ منشاء ہے کہ میں اپنی بیوی کا خرج مہیا کروں اور اس کے آرام کا خیال رکھوں تو اس کا یہ فعل بھی خدا کے حضور ایک نیکی شمار ہو گا امگر افسوس ہے کہ دنیا میں لاکھوں انسان صرف اس لئے نماز پڑھتے ہیں کہ انہیں بچپن سے نماز کی عادت پڑ چکی ہے اور لاکھوں انسان صرف اس لئے روزہ رکھتے ہیں کہ ان کے ارد گرد کے لوگ روزہ دار ہوتے ہیں اور لاکھوں انسان صرف اس لئے حج کرتے ہیں کہ تالو گوں میں ان کا نام حاجی مشہور ہو اور وہ نیک سمجھے جائیں اور ان کے کاروبار 1 : بخاری کتاب النفقات باب فضل نفقة على الاهل