چالیس جواہر پارے — Page 152
152 بچوں کا حاکم بھی ہو گا۔ایک عورت اپنے خاوند کے ساتھ محبت کے اعلیٰ مقام پر ہونے کے باوجود انتظامی رنگ میں محکوم ہوتی ہے مگر گھر کے بچوں اور نوکروں پر اور نیز خاوند کے اس مال پر جو عورت کے سپر د ہوتا ہے وہ حاکم بھی ہوتی ہے۔اسی طرح ایک بادشاہ سے لے کر غلام تک اور ایک جرنیل سے لے کر سپاہی تک اور ایک گورنر سے لے کر دفتر کے چپڑاسی تک سب اپنے اپنے دائرہ کے اندر حاکم بھی ہیں اور محکوم بھی۔بادشاہ ساری رعایا کا حاکم ہوتا ہے مگر وہ خدا کا یا دوسرے لفظوں میں قضا و قدر کے قانون کا محکوم بھی ہوتا ہے اور یہی حال تمام دوسرے افسروں اور ماتحتوں کا ہے کہ وہ ایک جہت سے حاکم ہیں اور دوسری جہت سے محکوم ہیں اور آنحضرت صلی اللہ ظلم کے ارشاد کے مطابق یہ سب لوگ اپنے اپنے دائرہ میں اپنی اپنی رعایا کے متعلق پوچھے جائیں گے کہ انہوں نے اپنے ماتحتوں کا حق ادا کیا یا نہیں ؟ حتی کہ جب ہم اس آخری انسان پر پہنچ جاتے ہیں جس کے نیچے بظاہر کوئی محکوم نظر نہیں آتا تو غور کرنے سے یہ پتہ لگتا ہے کہ دراصل وہ بھی ایک چیز کا حاکم ہے اور یہ چیز اس کا نفس ہے جس پر اسے کامل اختیار دیا گیا ہے۔پس اس سے اس کے نفس کے متعلق سوال کیا جائے گا کہ اس نے کہاں تک اس کا حق ادا کیا ہے۔اس طرح آنحضرت ملا لی ایم نے ہر شخص کو ہوشیار کیا ہے کہ خواہ وہ سوسائٹی کے کسی طبقہ سے تعلق رکھتا ہے بہر حال وہ کسی نہ کسی حیثیت میں حاکم ہے اور اسے اپنے دائرہ حکومت میں اپنے کاموں کی جواب دہی کے لئے تیار رہنا چاہیے۔دوسری طرف یہ حدیث لوگوں کے لئے ایک بشارت بھی ہے اور ان کی ہمتوں کو بلند کرتی ہے کہ خواہ اس وقت تم درجہ میں کتنے ہی نیچے ہو تم بہر حال دوسری جہت سے حاکم بھی ہو۔